حدیث نمبر: 8084
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ : أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ آتِيَهُ بِالْمُدْيَةِ ، وَهِيَ الشَّفْرَةُ ، فَأَتَيْتُهُ بِهَا ، فَأَرْسَلَ بِهَا فَأُرْهِفَتْ ، فَأَعْطَانِيهَا ، وَقَالَ : " اغْدُ عَلَيَّ بِهَا " فَفَعَلْتُ ، فَخَرَجَ بِأَصْحَابِهِ إِلَى أَسْوَاقِ الْمَدِينَةِ ، وَفِيهَا زِقَاقُ خَمْرٍ قَدْ جُلِبَتْ مِنَ الشَّامِ ، فَأَخَذَ الْمُدْيَةَ مِنِّي فَشَقَّ مَا كَانَ مِنْ تِلْكَ الزِّقَاقِ بِحَضْرَتِهِ ، ثُمَّ أَعْطَانِيهَا ، وَأَمَرَ أَصْحَابَهُ الْذِينَ كَانُوا مَعَهُ أَنْ يَمْضُوا مَعِي وَأَنْ يُعَاوِنُونِي ، فَأَمَرَنِي أَنْ آتِيَ الْأَسْوَاقَ كُلَّهَا ، فَلَا أَجِدُّ فِيهَا زِقَّ خَمْرٍ إِلَّا شَقَقْتُهُ . فَفَعَلْتُ فَلَمْ أَتْرُكْ فِي أَسْوَاقِهَا زِقًّا إِلَّا شَقَقْتُهُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ ہدایت کی کہ میں آپ کے پاس مدیہ لے کے آؤں راوی کہتے ہیں : اس سے مراد چھری ہے ، میں وہ لے کر آپ کے پاس آیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بھجوایا تاکہ اسے تیز کیا جائے پھر آپ نے وہ مجھے عطا کی اور فرمایا کل صبح میرے پاس یہ لے کے آنا میں نے ایسا ہی کیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کو ساتھ لے کر مدینہ منورہ کے بازاروں کی طرف گئے جن میں شراب کے مشکیزے موجود تھے جو شام سے لائے گئے تھے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ چھری مجھ سے لی اور اپنے سامنے مشکیزوں کو چیرنا شروع کیا پھر آپ نے وہ چھری مجھے دی آپ نے اپنے اصحاب کو حکم دیا جو آپ کے ساتھ تھے وہ لوگ میرے ساتھ جائیں اور اس بارے میں میرے ساتھ مدد کریں آپ نے مجھے یہ حکم دیا کہ میں تمام بازاروں میں جاؤں اور جہاں بھی مجھے شراب کا مشکیزہ ملے میں اسے چیر دوں میں نے ایسا ہی کیا میں نے بازار میں جو بھی مشکیزہ پایا اسے چیر دیا ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأشربة / حدیث: 8084
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (6165)»