حدیث نمبر: 8082
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنْ كَانَ لِمِنْ أَوَّلِ مَا عَهِدَ إِلَيَّ فِيهِ رَبِّيَ وَنَهَانِي عَنْهُ بَعْدَ عِبَادَةِ الْأَوْثَانِ ، وَشُرْبِ الْخَمْرِ لِمُلَاحَاةُ الرِّجَالِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ الْمُتَوَكِّلِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ عِنْدَ الْجُمْهُورِ ، وَنُقِلَ عَنِ ابْنِ مَعِينٍ تَوْثِيقُهُ فِي رِوَايَةٍ ، وَقَالَ فِي الْأُخْرَى : لَيْسَ بِشَيْءٍ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں : ” میرے پروردگار نے بتوں کی عبادت کے بعد جس چیز کے بارے میں مجھے سب سے پہلے تلقین کی اور جس سے مجھے سب سے پہلے منع کیا وہ شراب پینا ہے جو لوگوں کے باہمی تنازعات کا باعث بنتی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن متوکل ہے جمہور کے نزدیک وہ ضعیف ہے یحیی بن معین سے ایک روایت میں اس کی توثیق نقل کی گئی ہے ، اور دوسری روایت کے مطابق انہوں نے یہ کہا: ہے کہ یہ کوئی چیز نہیں ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأشربة / حدیث: 8082
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (240/23)»