مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأطعمة— کھانوں کے بارے میں روایات
بَابُ أَكْلِ الثُّومِ وَالْبَصَلِ . باب: لہسن اور پیاز کھانا
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ كُلَّ جَارِيَةٍ بِهَا حَبَلٌ حَرَامٌ عَلَى صَاحِبِهَا حَتَّى تَضَعَ مَا فِي بَطْنِهَا وَإِنَّ كُلَّ حِمَارٍ يُعْتَمَلُ عَلَيْهِ حَرَامٌ لَحْمُهُ وَإِنَّ الثُّومَ حَرَامٌ " ثُمَّ إِنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَحَلَّ الثُّومَ وَأَمَرَ مَنْ يَأْكُلُهُ : " أَنْ لَا يَخْرُجَ إِلَى الْمَسْجِدِ حَتَّى يَذْهَبَ رِيحُهُ إِنَّهُ أَذًى فَلَا يَقْرَبْ مَنْ أَكَلَهُ الْمَسْجِدَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَابَلْتِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” ( مال غنیمت میں کنیز کے طور پر ملنے والی ) ہر لڑکی جو حاملہ ہو وہ اپنے مالک کے لئے حرام ہو گی جب تک وہ اپنے پیٹ میں موجود بچے کو جنم نہیں دیدیتی اور ہر وہ گدھا جس پر سامان لادا جاتا ہے اس کا گوشت حرام ہو گا ، اور لہسن حرام ہے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لہسن کو حلال قرار دیدیا تھا ، لیکن جو شخص اسے کھاتا ہے اسے یہ حکم دیا کہ وہ مسجد کی طرف نہ آئے ، جب تک اس کی بو ختم نہیں ہو جاتی جو تکلیف کا باعث بنتی ہے جس شخص نے اسے کھایا ہو وہ مسجد کے قریب نہ آئے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبداللہ بابلتی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔