مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأطعمة— کھانوں کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْمَنِّ . باب: من کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
عَنِ أَنَسٍ قَالَ : أَهْدَى الْأُكَيْدِرُ لِرَسُولِ اللَّهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَرَّةً مِنْ مَنٍّ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ الصَّلَاةِ مَرَّ عَلَى الْقَوْمِ فَجَعَلَ يُعْطِي كُلَّ رَجُلٍ مِنْهُمْ قِطْعَةً وَأَعْطَى جَابِرًا قِطْعَةً ثُمَّ إِنَّهُ رَجَعَ إِلَيْهِ فَأَعْطَاهُ قِطْعَةً أُخْرَى فَقَالَ : إِنَّكَ قَدْ أَعْطَيْتَنِي مَرَّةً فَقَالَ : " هَذِهِ لِبَنَاتِ عَبْدِ اللَّهِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ وَفِيهِ ضَعْفٌ وَمَعَ ذَلِكَ فَحَدِيثُهُ حَسَنٌ . ¤ وَقَدْ تَقَدَّمَ بَابٌ فِي الْحَلْوَى . ¤سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : اکیدر نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں من کا مٹکا تحفے کے طور پر بھجوایا جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ کر فارغ ہوئے ، تو آپ حاضرین کے پاس سے گزرے آپ نے ان میں سے ہر ایک شخص کو اس کا کچھ حصہ دیا آپ نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کو بھی ایک ٹکڑا دیا پھر جب آپ واپس ان کے پاس سے گزرے ، تو آپ نے انہیں ایک اور ٹکڑا دیا انہوں نے عرض کی : آپ مجھے پہلے ایک مرتبہ عطا کر چکے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ ( تمہارے والد ) عبداللہ کی صاحبزادیوں کے لئے ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے اس کے ہمراہ اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ۔ اس سے پہلے حلوی سے متعلق باب میں بھی روایت گزر چکی ہے ۔