حدیث نمبر: 8002
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا أُتِيَ بِالْبَاكُورَةِ مِنَ الثِّمَارِ وَضَعَهَا عَلَى عَيْنَيْهِ ثُمَّ قَالَ : " اللَّهُمَّ كَمَا أَطْعَمْتَنَا أَوَّلَهُ فَأَطْعِمْنَا آخِرَهُ " ثُمَّ يَأْمُرُ بِهِ لِلْمَوْلُودِ مِنْ أَهْلِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالصَّغِيرِ وَزَادَ : كَانَ إِذَا أُتِيَ بِالْبَاكُورَةِ مِنَ الثَّمَرَةِ قَبَّلَهَا وَجَعَلَهَا عَلَى عَيْنَيْهِ . ¤ وَرِجَالُ الصَّغِيرِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب موسم کا پہلا پھل لایا جاتا تو آپ اس کو اپنے سامنے رکھتے تھے ، اور یہ دعا کرتے تھے : اے اللہ ! جس طرح ، تو نے اس کا ابتدائی حصہ ہمیں کھلایا ہے اس طرح اس کا آخری حصہ بھی ہمیں کھلانا پھر آپ اپنے اہل خانہ میں سے کمسن بچے کے بارے میں حکم دیتے تھے اور وہ پھل اس کو دیدیا جاتا تھا ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ۔ تاہم انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” جب آپ کے پاس موسم کا پہلا پھل لایا جاتا تھا تو آپ اسے بوسہ دیتے تھے اور اپنی آنکھوں پر لگاتے تھے “ ۔ معجم صغیر کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأطعمة / حدیث: 8002
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (791) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11222)»