مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأطعمة— کھانوں کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الْحَلْوَى . باب: حلویٰ کا بیان
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ قَالَ : لَمَّا خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى الْمِرْبَدِ فَرَأَى عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - يَقُودُ نَاقَةً تَحْمِلُ دَقِيقًا وَسَمْنًا وَعَسَلًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " نَخٍ " فَأَنَاخَ ، فَدَعَا بِبُرْمَةٍ فَجَعَلَ فِيهَا مِنَ السَّمْنِ وَالْعَسَلِ وَالدَّقِيقِ ، ثُمَّ أَمَرَ فَأُوقِدَ تَحْتَهَا حَتَّى نَضِجَ ثُمَّ قَالَ : " كُلُوا " فَأَكَلَ مِنْهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ قَالَ : " هَذَا شَيْءٌ يَدْعُوهُ أَهْلُ فَارِسَ الْخَبِيصَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ وَرِجَالُ الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گودام کی طرف تشریف لے کے گئے ، تو آپ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو ملاحظہ فرمایا : وہ ایک اونٹنی کو ہانک کر لے جا رہے تھے جس پر آٹا گھی اور شہد لادا ہوا تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے بٹھاؤ انہوں نے بٹھا دیا پھر آپ نے ہنڈیا منگوائی آپ نے اس میں گھی شہد اور آٹا ڈالا پھر آپ کے حکم کے تحت اس کے نیچے آگ جلا دی گئی پھر جب وہ پک گیا تو آپ نے فرمایا : تم لوگ اسے کھاؤ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی اسے کھایا پھر آپ نے ارشاد فرمایا : یہ وہ چیز ہے ، جسے اہل فارس ” خبیص “ کہتے ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے ۔ معجم صغیر اور معجم اوسط کے رجال ثقہ ہیں ۔