حدیث نمبر: 7986
وَعَنْ نُسَيْكَةَ أُمِّ عَمْرِو بْنِ جُلَاسٍ قَالَتْ : إِنِّي عِنْدَ عَائِشَةَ وَقَدْ ذَبَحَتْ شَاةً لَهَا فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَفِي يَدِهِ عُصَيَّةٌ فَأَلْقَاهَا ثُمَّ هَوَى إِلَى الْمَسْجِدِ فَصَلَّى فِيهِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ هَوَى إِلَى فِرَاشِهِ فَتَبَطَّحَ عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ : " هَلْ مِنْ غَدَاءٍ ؟ " فَأَتَيْنَاهُ بِصَحْفَةٍ فِيهَا خُبْزُ شَعِيرٍ ، وَفِيهَا كِسْرَةٌ ، وَقِطْعَةٌ مِنَ الْكِرْشِ ، وَفِيهَا الذِّرَاعُ ، قَالَتْ : فَأَخَذَتْ عَائِشَةُ قِطْعَةً مِنَ الْكِرْشِ ، وَإِنَّهَا لِتَنْهَشُهَا إِذْ قَالَتْ : ذَبَحْنَا شَاةً الْيَوْمَ فَمَا أَمْسَكْنَا غَيْرَ هَذَا ، قَالَتْ : يَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا بَلْ كُلُّهَا أَمْسَكْتِ إِلَّا هَذَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَجْمَعٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

نسیکہ ام عمرو بن جلاس بیان کرتی ہیں : میں ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس موجود تھی ، انہوں نے اپنی بکری ذبح کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھر تشریف لائے ، آپ کے دست مبارک میں چھڑی تھی ، آپ نے اسے رکھ دیا پھر آپ نماز کی مخصوص جگہ کی طرف بڑھے وہاں آپ نے دو رکعت ادا کیں پھر آپ اپنے بستر کی طرف آئے ، اور اس پر تشریف فرما ہوئے ، پھر آپ نے دریافت کیا : کیا کچھ کھانے کے لئے ہے ؟ ہم نے آپ کی خدمت میں پیالہ پیش کیا جس میں جو کی روٹی تھی اور روٹی کا ٹکڑا تھا ، اور کرش ( جانور کے مخصوص حصے کا گوشت ) کا ٹکڑا تھا ، اور ایک پایا تھا ، وہ خاتون بیان کرتی ہیں : سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کرش کا ٹکڑا لیا اور اسے نوچ کر کھانے لگیں ، اسی دوران انہوں نے بتایا کہ ہم نے آج بکری ذبح کی تھی اور اس کے علاوہ کچھ بھی نہیں رکھا ( یعنی باقی سارا گوشت صدقہ کر دیا ) وہ خاتون بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ! بلکہ تم نے سارا کچھ رکھ لیا ، صرف اس کو نہیں رکھا ( یعنی جو صدقہ کیا ہے ، وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں محفوظ ہو گیا ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن اسماعیل بن ابراہیم بن مجمع ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأطعمة / حدیث: 7986
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (44/25)»