مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأطعمة— کھانوں کے بارے میں روایات
بَابُ ادِّخَارِ الْقُوتِ . باب: خوراک ذخیرہ کرنا
عَنْ سَالِمٍ مَوْلَى زَيْدِ بْنِ صُوحَانَ قَالَ : كُنْتُ مَعَ مَوْلَايَ زَيْدِ بْنِ صُوحَانَ فِي السُّوقِ ، فَمَرَّ عَلَيْنَا سَلْمَانُ الْفَارِسِيُّ ، وَقَدِ اشْتَرَى وَسْقًا مِنْ طَعَامٍ فَقَالَ لَهُ زَيْدٌ : يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ تَفْعَلُ هَذَا وَأَنْتَ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ فَقَالَ : إِنَّ النَّفْسَ إِذَا أَحْرَزَتْ رِزْقَهَا اطْمَأَنَّتْ وَتَفَرَّغَتْ لِلْعِبَادَةِ وَأَيِسَ مِنْهَا الْوَسْوَاسُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . وَسَالِمٌ لَمْ أَعْرِفْهُ وَفِيهِ أَيْضًا الْهُذَيْلُ بْنُ بِلَالٍ ، وَثَّقَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفُهُ ابْنُ مَعِينٍ وَجَمَاعَةٌ . ¤زید بن صوحان کے غلام سالم بیان کرتے ہیں : میں اپنے آقا زید بن صوحان کے ساتھ بازار میں موجود تھا سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ ہمارے پاس سے گزرے انہوں نے اناج کا ایک وسق خریدا تھا صوحان نے کہا: اے ابوعبداللہ ! آپ اللہ کے رسول کے صحابی ہو کے ایسا کر رہے ہیں ( یعنی اتنا زیادہ اناج ذخیرہ کر رہے ہیں ) تو انہوں نے فرمایا : جب نفس اپنا رزق محفوظ کر لیتا ہے ، تو وہ مطمئن ہو جاتا ہے ، اور عبادت کے لئے فارغ ہو جاتا ہے ، اور وسوسے اس سے مایوس ہو جاتے ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ سالم نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں ۔ اس کی سند میں ایک راوی ہذیل بن بلال ہے ، جسے امام أحمد اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے یحیی بن معین اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔