حدیث نمبر: 7969
وَعَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ قَالَتْ : أَجْدَبَ النَّاسُ سَنَةً ، وَكَانَتِ الْأَعْرَابُ يَأْتُونَ الْمَدِينَةَ ، وَكَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَأْمُرُ الرَّجُلَ فَيَأْخُذُ بِيَدِ الرَّجُلِ فَيُضِيفُهُ وَيُعَشِّيهِ ، فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ لَيْلَةً وَكَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - طَعَامٌ يَسِيرٌ وَشَيْءٌ مِنْ لَبَنٍ فَأَكَلَهُ الْأَعْرَابِيُّ وَلَمْ يَدَعْ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شَيْئًا ، فَجَاءَ بِهِ لَيْلَةً أَوْ لَيْلَتَيْنِ فَجَعَلَ يَأْكُلُهُ كُلَّهُ ، فَقُلْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : اللَّهُمَّ لَا تُبَارِكْ فِي هَذَا الْأَعْرَابِيِّ يَأْكُلُ طَعَامَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَيَدَعُهُ . ثُمَّ جَاءَ بِهِ لَيْلَةً فَلَمْ يَأْكُلْ مِنَ الطَّعَامِ إِلَّا يَسِيرًا . فَقُلْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَاكَ وَجَاءَ بِهِ وَقَدْ أَسْلَمَ فَقَالَ : " إِنَّ الْكَافِرَ يَأْكُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ ، وَإِنَّ الْمُؤْمِنَ يَأْكُلُ فِي مِعًى وَاحِدٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِتَمَامِهِ ، وَرَوَى أَحْمَدُ آخِرَهُ ، وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ایک سال لوگ قحط سالی کا شکار ہو گئے ، تو دیہاتی لوگ مدینہ منورہ آ جاتے تھے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسی شخص کو حکم دیتے تھے وہ کسی شخص کا ہاتھ پکڑ کر اسے مہمان بنا لیتا تھا ، اور رات کا کھانا کھلاتا تھا ایک رات ایک دیہاتی آیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھوڑا سا کھانا تھا ، اور تھوڑا سا دودھ تھا اس دیہاتی نے اسے کھا لیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کچھ بھی نہیں رہنے دیا پھر وہ ایک رات آپ کے ساتھ آیا یا دو راتیں آپ کے ساتھ آیا وہ ساری چیزیں کھا لیتا تھا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کہا: اے اللہ ! تو اس دیہاتی کے کھانے میں برکت نہ رکھنا جو اللہ کے رسول کے کھانے کو کھا جاتا ہے ، اور آپ کو ویسے ہی چھوڑ دیتا ہے پھر ایک رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسے ساتھ لے کے آئے ، تو اس نے تھوڑا سا کھانا کھایا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی : یہ وہی ہے جو پہلے بھی آیا تھا اس شخص نے اسلام قبول کر لیا تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے ، اور مومن ایک آنت میں کھاتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے مکمل روایت کے طور پر نقل کی ہے ۔ امام أحمد نے اس کا آخری حصہ نقل کیا ہے ۔ امام طبرانی کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأطعمة / حدیث: 7969
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (432/23) اخرجه احمد فى المسند (335/6)»