حدیث نمبر: 7908
وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ : كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمًا فَقَرَّبَ طَعَامًا ، فَلَمْ أَرَ طَعَامًا كَانَ أَكْثَرَ بَرَكَةً مِنْهُ أَوَّلَ مَا أَكَلْنَا ، وَلَا أَقَلَّ بَرَكَةً فِي آخِرِهِ ، قُلْنَا : كَيْفَ هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " لِأَنَّا ذَكَرْنَا اسْمَ اللَّهِ حِينَ أَكَلْنَا ، ثُمَّ قَعَدَ بَعْدُ مَنْ أَكَلَ وَلَمْ يُسَمِّ فَأَكَلَ مَعَهُ الشَّيْطَانُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ رَاشِدُ بْنُ جَنْدَلٍ ، وَحَبِيبُ بْنُ أَوْسٍ ، وَكِلَاهُمَا لَيْسَ لَهُ إِلَّا رَاوٍ وَاحِدٌ ، وَبَقِيَّةُ إِسْنَادِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا ابْنِ لَهِيعَةَ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے آپ نے کھانا منگوایا میں نے ایسا کوئی کھانا نہیں دیکھا جو آغاز میں اس سے زیادہ برکت والا ہو جو ہم نے پہلے کھا لیا تھا ، اور اختتام کے حوالے سے سب سے کم برکت والا ہو ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس کی وجہ کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس کی وجہ یہ ہے کہ جب ہم نے ( آغاز میں ) کھانا کھایا تھا تو ہم نے اللہ کا نام ذکر کر دیا تھا پھر اس کے بعد ایک شخص آ کر بیٹھا اور اس نے اس میں سے کھایا اور اس نے بسم اللہ نہیں پڑھی تھی ، تو شیطان نے اس کے ساتھ کھا لیا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی راشد بن جندل اور ایک راوی حبیب بن اوس ہے یہ دونوں ایک ہی راوی ہیں ، اس کی سند کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں صرف ابن لہیعہ کا معاملہ مختلف ہے ، اور اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأطعمة / حدیث: 7908
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (4155)»