مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأطعمة— کھانوں کے بارے میں روایات
بَابُ إِطْعَامِ الطَّعَامِ باب: کھانا کھلانا
وَعَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ قَالَ : صَنَعَتِ امْرَأَةٌ مِنْ نِسَاءِ الْحُسَيْنِ طَعَامًا فِي بَعْضِ أَرَضِيهِ فَطَعِمَ ثُمَّ رَفَعَ الطَّعَامَ فَجَاءَ مَوْلًى لَهُ فَدَعَا بِالطَّعَامِ فَقَالَ : يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ لَا أُرِيدُهُ . قَالَ : لِمَ ؟ قَالَ : أَكَلْنَا قُبَيْلُ عِنْدَ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ الْحُسَيْنُ : إِنَّ أَبَاهُ كَانَ سَيِّدَ قُرَيْشٍ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَطْعِمُوا الطَّعَامَ ، وَأَطِيبُوا الْكَلَامَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ ثَابِتٍ الْبَكْرِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤حبیب بن ابوثابت بیان کرتے ہیں : سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کی ایک زوجہ محترمہ نے ان کی زمین میں کسی جگہ کھانا تیار کیا انہوں نے کھانا کھا لیا پھر انہوں نے کھانا اٹھا لیا اسی دوران ان کا ایک غلام آ گیا تو امام حسین نے کھانا منگوایا تو اس غلام نے کہا: اے ابوعبداللہ ! میں کھانا نہیں کھانا چاہتا امام حسین رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : وہ کیوں اس نے بتایا تھوڑی دیر پہلے ہم نے سیدنا عبیداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے ہاں کھانا کھایا ہے ، تو امام حسین رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ان کے والد قریش کے سردار تھے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” اے بنوعبدالمطلب کھانا کھلاؤ اور پاکیزہ کلام کرو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن ثابت بکری ہے ، اور وہ متروک ہے ۔