حدیث نمبر: 7863
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ : " إِنَّ لِلَّهِ تَعَالَى عِبَادًا لَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَلَا يُزَكِّيهِمْ ، وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ " قِيلَ : مَنْ أُولَئِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " مُتَبَرِّئٌ مِنْ وَالِدَيْهِ رَاغِبٌ عَنْهُمَا ، وَمُتَبَرِّئٌ مِنْ وَلَدِهِ ، وَرَجُلٌ أَنْعَمَ عَلَيْهِ قَوْمٌ فَكَفَرَ نِعْمَتَهُمْ وَتَبَرَّأَ مِنْهُمْ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَزَادَ : " وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ " . ¤ وَفِيهِ زَبَّانُ بْنُ فَائِدٍ ، ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ ، وَابْنُ مَعِينٍ ، وَقَالَ أَبُو حَاتِمٍ : صَالِحٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا معاذ بن انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : “” “” بے شک اللہ تعالیٰ کے کچھ بندے ایسے ہیں جن کے ساتھ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کلام نہیں کرے گا ، اور ان کا تزکیہ نہیں کرے گا ، اور ان کی طرف نظر رحمت نہیں کرے گا عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! وہ کون لوگ ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اپنے والدین سے لاتعلقی کا اظہار کر کے ان سے منہ موڑنے والا اپنی اولاد سے لاتعلقی کا اظہار کرنے والا اور وہ شخص جس پر کسی قوم نے انعام کیا ہو اور وہ ان کی نعمت کا انکار کرے اور ان سے لاتعلقی کا اظہار کرے “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” ان لوگوں کے لئے درد ناک عذاب ہو گا “ ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی زبان بن فائد ہے ، جسے امام أحمد اور یحیی بن معین نے ضعیف قرار دیا ہے ۔ ابوحاتم کہتے ہیں : یہ صالح ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطلاق / حدیث: 7863
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (195/20) اخرجه احمد فى المسند (440/3)»