مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطلاق— طلاق کے بارے میں روایات
بَابُ مَتَى تَحِلُّ الْمَبْتُوتَةُ . باب: طلاق بتہ والی عورت کب حلال ہوتی ہے ؟
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : كَانَتِ امْرَأَةٌ مِنْ بَنِي قُرَيْظَةَ يُقَالُ لَهَا : تَمِيمَةُ تَحْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الزُّبَيْرِ فَطَلَّقَهَا فَتَزَوَّجَهَا رِفَاعَةُ مِنْ بَنِي قُرَيْظَةَ ، ثُمَّ فَارَقَهَا فَأَرَادَتْ أَنْ تَرْجِعَ إِلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الزُّبَيْرِ فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا ذَاكَ مِنْهُ إِلَّا كَهُدْبَةِ ثَوْبِي هَذَا ! ! فَقَالَ : " وَاللَّهِ يَا تَمِيمَةُ لَا تَرْجِعِينَ إِلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَتَّى يَذُوقَ عُسَيْلَتَكِ رَجُلٌ غَيْرُهُ " ، قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ [ كَانَ ] قَدْ جَاءَنِي هِبَةً . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا تَسْمِيَتِهَا : تَمِيمَةَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ . ¤سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : بنوقریظہ سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون جس کا نام تمیمہ تھا وہ سیدنا عبدالرحمن بن زبیر رضی اللہ عنہما کی اہلیہ تھیں رفاعہ جن کا تعلق بنوقریظہ سے تھا انہوں نے اس خاتون کے ساتھ شادی کر لی پھر انہوں نے اس خاتون سے علیحدگی کر لی اس خاتون نے دوبارہ عبدالرحمن بن زبیر کے پاس واپس جانے کا ارادہ کیا ( یعنی دوبارہ اس کے ساتھ شادی کا ارادہ کیا ) تو اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس کا ساتھ ( یعنی دوسرے شوہر کا ساتھ ) میرے اس کپڑے کے کنارے کی طرح ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ کی قسم ! اے تمیمہ تم عبدالرحمن کی طرف اس وقت تک واپس نہیں جا سکتی ہو جب تک اس کے علاوہ کوئی اور شخص ( یعنی تمہارا دوسرا شوہر ) تمہارا شہد نہیں چکھ لیتا اس خاتون نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ میرے پاس ہبہ کے طور پر آیا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں
یہ روایت صحیح میں مذکور ہے تاہم اس میں اس خاتون کا نام تمیمہ ذکر نہیں ہوا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے ، اور وہ مدلس ہے ۔