مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطلاق— طلاق کے بارے میں روایات
بَابُ طَلَاقِ السُّنَّةِ وَكَيْفَ الطَّلَاقُ . باب: طلاق کا سنت طریقہ اور طلاق کیسے دی جائے ؟
عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَجُلًا أَتَى عُمَرَ فَقَالَ : إِنِّي طَلَّقْتُ امْرَأَتِي أَلْبَتَّةَ وَهِيَ حَائِضٌ فَقَالَ عُمَرُ : عَصَيْتَ رَبَّكَ وَفَارَقْتَ امْرَأَتَكَ ، فَقَالَ الرَّجُلُ : فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمَرَ ابْنَ عُمَرَ حِينَ فَارَقَ زَوْجَتَهُ أَنْ يُرَاجِعَهَا ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمَرَهُ أَنْ يُرَاجِعَ بِطَلَاقٍ بَقِيَ ، وَإِنَّهُ لَمْ يَبْقَ لَكَ مَا تُرْجِعُ بِهِ امْرَأَتَكَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا إِسْمَاعِيلَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ التَّرْجُمَانِيَّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک شخص سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور بولا: میں نے اپنی بیوی کو اس کے حیض کے دوران طلاق بتہ دیدی ہے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم نے اپنے پروردگار کی نافرمانی کی ہے ، اور تم اپنی بیوی سے جدا ہو گئے ہو اس شخص نے کہا: لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ، تو سیدنا عبداللہ بن عمر کو اپنی بیوی سے رجوع کرنے کی ہدایت کی تھی جب انہوں نے اپنی بیوی سے علیحدگی اختیار کی تھی ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ کے رسول نے اسے اس طلاق کی صورت میں رجوع کی ہدایت کی تھی ، جو طلاق باقی رہ گئی تھی لیکن تمہارے لئے ، تو اتنی طلاق باقی ہی نہیں رہی جس کی بنیاد پر تم اپنی بیوی سے رجوع کر سکو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف اسماعیل بن ابراہیم ترجمانی کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔