مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب العتق— غلام آزاد کرنے کے بارے میں روایات
بَابُ أَيِّ الرِّقَابِ أَفْضَلُ . باب: کون سی قسم کا غلام ( آزاد کرنے کے حوالے سے ) زیادہ فضیلت رکھتا ہے ؟
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " الْإِيمَانُ بِاللَّهِ، وَالْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ " . قَالَ : فَأَيُّ الرِّقَابِ أَعْظَمُ أَجْرًا ؟ قَالَ : " أَغْلَاهَا ثَمَنًا، وَأَنْفَسُهَا عِنْدَ أَهْلِهَا " قَالَ : فَإِنْ لَمْ أَسْتَطِعْ ؟ قَالَ : " قَوِّمْ صَانِعًا أَوِ اصْنَعْ لِأَخْرَقَ " قَالَ : فَإِنْ لَمْ أَسْتَطِعْ ؟ قَالَ : " فَاحْبِسْ نَفْسَكَ عَنِ الشَّرِّ ، فَإِنَّهُ صَدَقَةٌ حَسَنَةٌ تَصَدَّقُ بِهَا عَنْ نَفْسِكَ " . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ طَرَفُهُ مِنْ أَوَّلِهِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس نے عرض کی : اے اللہ ! کے نبی ! کون سا عمل زیادہ فضیلت رکھتا ہے ؟ آپ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھنا اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنا ، اس نے عرض کی : ( آزاد کرتے ہوئے ) غلاموں میں کون سا زیادہ اجر والا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس کی قیمت زیادہ ہو ، اور وہ اپنے مالک کے نزدیک زیادہ عمدہ ہو ، اس نے عرض کی : اگر میں اس کی استطاعت نہ رکھوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تو تم کام کرنے والے کی مدد کرو ، یا اپاہچ کے لئے کوئی کام کر دو ، اُس نے عرض کی : اگر میں اس کی بھی استطاعت نہ رکھوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اپنے آپ سے برائی کو روک کے رکھو ! کیونکہ یہ صدقہ اور اچھائی ہو گی ، جو تم اپنی ذات کی طرف سے کرو گے “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں اس روایت کا ابتدائی حصہ منقول ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔