مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب العتق— غلام آزاد کرنے کے بارے میں روایات
بَابُ الْعِتْقِ وَالْإِعَانَةِ فِيهِ . باب: غلام آزاد کرنا اور اس بارے میں مدد کرنا
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا أَسْلَمَ فَلَمَّا هَاجَرَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَشِيَ أَهْلَهُ أَنْ يَتْبَعَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَيَّدُوهُ ، فَكَتَبَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِنَّكَ قَدْ عَلِمْتَ بِإِسْلَامِي فَسَيِّرْنِي أَوْ خَلِّصْنِي فَبَعَثَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سِتَّةَ نَفَرٍ عَلَى بَعِيرٍ وَقَالَ : " لَعَلَّكُمْ تَجِدُونَ فِي دَارِ مَنْ يُعِينُكُمْ عَلَيْهِ " . فَأَعْتَقَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - .
رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے اسلام قبول کر لیا ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کی ، تو اس کے اہل خانہ کو یہ اندیشہ ہوا کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چلا جائے گا ، تو انہوں نے اس کو باندھ دیا ، اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خط لکھا کہ آپ میرے اسلام کے بارے میں جانتے ہیں ، تو آپ مجھے ( اپنے پاس ) بلوا لیں ، یا مجھے خلاصی دلوا دیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چھ افراد ایک اونٹ پر بھیجے ، اور فرمایا : شاید تمہیں کسی گھر میں کوئی ایسا شخص مل جائے ، جو اس کے بارے میں تمہاری مدد کرے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے آزاد قرار دیا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔