مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفرائض— وراثت کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي أُمٍّ وَأُخْتٍ وَجَدٍّ . باب: ماں ، بہن اور دادا کا حکم
عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ : أَتَى بِي الْحَجَّاجُ مُوثَقًا ، فَلَمَّا أُتِيَ بِي إِلَى بَابِ الْقَصْرِ لَقِيَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي مُسْلِمٍ فَقَالَ : إِنَّا لِلَّهِ يَا شَعْبِيُّ لِمَا بَيْنَ دَفَّتَيْكَ مِنَ الْعِلْمِ وَلَيْسَ بِيَوْمِ شَفَاعَةٍ بُؤْ لِلْأَمِيرِ بِالشِّرْكِ وَالنِّفَاقِ عَلَى نَفْسِكَ فَبِالْحَرِيِّ أَنْ تَنْجُوَ . قَالَ : فَلَقَّنَنِي ، ثُمَّ لَقَّنَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْحَجَّاجِ ، فَقَالَ لِي مِثْلَ مَقَالَةِ يَزِيدَ ، فَلَمَّا أُدْخِلْتُ عَلَى الْحَجَّاجِ قَالَ لِي : يَا شَعْبِيُّ ، وَأَنْتَ مِمَّنْ خَرَجَ عَلَيْنَا وَكَبَّرَ ؟ قُلْتُ : أَصْلَحَ اللَّهُ الْأَمِيرَ أَحْزَنَ بِنَا الْمَنْزِلُ وَأَجْدَبَ الْجَنَابُ وَضَاقَ الْمَسْلَكُ وَاكْتَحَلْنَا السَّهَرَ وَاسْتَحْلَسْنَا الْخَوْفَ وَوَقَعْنَا فِي خِزْيَةٍ لَمْ نَكُنْ فِيهَا بَرَرَةً أَتْقِيَاءَ ، وَلَا فَجَرَةً أَقْوِيَاءَ . قَالَ : صَدَقَ وَاللَّهِ مَا بَرُّوا بِخُرُوجِهِمْ عَلَيْنَا ، وَلَا قَوُوا عَلَيْنَا إِذْ فَجَرُوا أَطْلِقَا عَنْهُ . قَالَ : فَاحْتَاجَ إِلَيَّ فِي فَرِيضَةٍ فَبَعَثَ إِلَيَّ قَالَ : مَا تَقُولُ فِي أُمٍّ وَأُخْتٍ وَجَدٍّ ؟ قُلْتُ : اخْتَلَفَ فِيهَا خَمْسَةٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ، وَعَلِيٌّ وَعُثْمَانُ، وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ . قَالَ : فَمَا قَالَ فِيهَا ابْنُ عَبَّاسٍ ؟ إِنْ كَانَ لَمُتْقِنًا . قَالَ : جَعَلَ الْجَدَّ أَبًا ، وَلَمْ يُعْطِ الْأُخْتَ شَيْئًا وَأَعْطَى الْأُمَّ الثُّلُثَ . قَالَ : فَمَا قَالَ فِيهَا ابْنُ مَسْعُودٍ ؟ قُلْتُ : جَعَلَهَا مِنْ سِتَّةٍ أَعْطَى الْأُخْتَ ثَلَاثَةً وَأَعْطَى الْجَدَّ اثْنَيْنِ وَأَعْطَى الْأُمَّ سَهْمًا . قَالَ : فَمَا قَالَ فِيهَا أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ ؟ قَالَ : قُلْتُ : جَعَلَهَا أَثْلَاثًا . قَالَ : فَمَا قَالَ فِيهَا أَبُو تُرَابٍ ؟ قُلْتُ : جَعَلَهَا مِنْ سِتَّةٍ أَعْطَى الْأُخْتَ ثَلَاثَةً وَأَعْطَى الْأُمَّ اثْنَيْنِ وَأَعْطَى الْجَدَّ سَهْمًا " . قَالَ : فَمَا قَالُ فِيهَا زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ ؟ قَالَ : قُلْتُ : جَعَلَهَا مِنْ سَبْعَةٍ أَعْطَى الْأُمَّ ثَلَاثَةً وَأَعْطَى الْجَدَّ اثْنَيْنِ وَأَعْطَى الْأُخْتَ اثْنَيْنِ . قَالَ : اؤمُرِ الْقَاضِيَ يُمْضِيهَا عَلَى مَا أَمْضَاهَا أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، وَالرَّاوِي عَنِ الشَّعْبِيِّ عَبَّادُ بْنُ مُوسَى وَلَيْسَ هُوَ الْخُتَّلِيُّ الَّذِي احْتَجَّ بِهِ الشَّيْخَانِ ، وَإِنَّمَا هُوَ الْعُكْلِيُّ ، وَذَكَرَ الذَّهَبِيُّ فِي الْمِيزَانِ : أَنَّهُ تَفَرَّدَ عَنْهُ ابْنُهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادِ بْنِ مُوسَى بْنِ رَاشِدٍ الْمُلَقَّبُ سَنْدُولَا . وَقَدْ رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي سُنَنِهِ مِنْ رِوَايَةِ ابْنِهِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادٍ عَنْهُ فَأَدْخَلَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الشَّعْبِيِّ أَبَا بَكْرٍ الْهُذَلِيَّ وَاسْمُهُ سُلْمَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَابْنُ مَعِينٍ وَأَبُو زُرْعَةَ وَغَيْرُهُمْ ، وَكَذَّبَهُ غُنْدَرٌ لَكِنَّهُ لَمْ يَتَفَرَّدْ عَنْ عَبَّادٍ ابْنُهُ مُحَمَّدٌ ، فَإِنَّهُ عِنْدَ الْبَزَّارِ وَالْبَيْهَقِيِّ مِنْ رِوَايَةِ عِيسَى بْنِ يُونُسَ عَنْهُ . وَفِي رِوَايَةٍ لِلْبَيْهَقِيِّ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَبَّادٍ ، حَدَّثَنَا الشَّعْبِيُّ . وَعَلَى هَذَا فَالْحَدِيثُ مُضْطَرِبُ الْإِسْنَادِ . ¤امام شعبی بیان کرتے ہیں : حجاج کے پاس مجھے باندھ کر لایا گیا ، جب میں محل کے دروازے پر پہنچا ، تو یزید بن ابومسلم کی مجھ سے ملاقات ہوئی ۔ انہوں نے کہا: اے شبعی ! بے شک ہم اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہیں اور تم بڑے عالم آدمی ہو ، لیکن آج سفارش کا دن نہیں ہے ، تم امیر کے سامنے اپنی ذات کے حوالے سے شرک اور نفاق سے برأت کا اظہار کر لینا ، تو یہ اس لائق ہو گا کہ تم نجات پا جاؤ ، امام شعبی کہتے ہیں : انہوں نے مجھے تلقین کی پھر محمد بن حجاج نے مجھے تلقین کی اور انہوں نے یزید کی بات کی مانند بات مجھ سے کہی ، جب مجھے حجاج کے سامنے لے جایا گیا ، تو اس نے مجھ سے کہا: اے شعبی ! تم ان افراد میں سے ایک ہو ، جنہوں نے ہمارے خلاف خروج کیا اور خود کو بڑا سمجھا ؟ میں نے کہا: اللہ تعالیٰ امیر کو ٹھیک رکھے ! رہائش نے ہمیں تنگی کا شکار کیا ، کنارہ خشک سالی کا شکار ہو گیا ، راستہ تنگ ہو گیا ، ہم رات بھر جاگتے رہے خوف کا شکار رہے رسوائی میں مبتلاء ہو گئے ، ہمارے درمیان نہ تو ایسے نیک لوگ ہیں ، جو پرہیزگار ہوں ، اور نہ ایسے گنہگار ہیں ، جو طاقتور ہوں ، تو حجاج نے کہا: اس نے ٹھیک کہا: ہے ، اللہ کی قسم ! نہ تو وہ اتنے نیک ہیں کہ وہ ہمارے خلاف خروج کر سکیں ، اور نہ ہی وہ ہمارے خلاف اتنے قوی ہیں جب وہ گنہگار ہوں ، تم اسے چھوڑ دو ! امام شعبی کہتے ہیں : پھر ایک وراثت کے مسئلے کے بارے میں اُسے میری ضرورت پیش آئی ، اس نے مجھے پیغام بھیجا اور کہا: تم ماں ، بہن اور دادا کے بارے میں کیا کہتے ہو ؟ میں نے جواب دیا : اس بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ، پانچ افراد کی آراء ، ایک دوسرے سے مختلف ہیں ، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ۔ حجاج نے دریافت کیا : اس بارے میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کیا کہا: ہے ؟ اگر وہ متقن تھے ، امام شعبی نے جواب دیا : انہوں نے دادا کو باپ کی جگہ قرار دیا ہے ، بہن کو کچھ نہیں دیا ہے اور ماں کو ایک تہائی دیا ہے ۔ حجاج نے دریافت کیا : اس مسئلہ کے بارے میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کیا کہا: ہے ؟ میں نے جواب دیا : انہوں نے اس کے چھ حصے کیے ہیں ، بہن کو تین حصے دیے ہیں ، دادا کو دو حصے دیے ہیں اور ماں کو ایک حصہ دیا ہے ۔ اس نے دریافت کیا : اس مسئلہ کے بارے میں امیر المؤمنین ( یعنی سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ ) نے کیا کہا: ہے ؟ میں نے کہا: انہوں نے اس کے تین حصے کیے ہیں ۔ اس نے دریافت کیا : اس مسئلہ کے بارے میں سیدنا ابوتراب رضی اللہ عنہ نے کیا کہا: ہے ؟ میں نے کہا: انہوں نے اس میں چھ حصے کیے ہیں ، بہن کو تین حصے دیے ہیں ، ماں کو دو حصے دیے ہیں اور دادا کو ایک حصہ دیا ہے ۔ اس نے دریافت کیا : اس مسئلہ کے بارے میں سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کیا کہا: ہے ؟ میں نے جواب دیا : انہوں نے اس کے سات حصے کیے ہیں ، ماں کو تین حصے دیے ہیں ، دادا کو دو حصے دیے ہیں اور بہن کو دو حصے دیے ہیں ۔ اُس نے کہا: تم قاضی کو یہ ہدایت کرو کہ وہ اس بارے میں وہ فیصلہ دے ، جو امیرالمؤمنین ( یعنی سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ ) نے دیا تھا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، امام شعبی سے روایت کرنے والا شخص عباد بن موسیٰ ہے ختلی نہیں ہے ، جس سے شیخین نے استدلال کیا ہے ، یہ عکلی ہے ، امام ذہبی نے ” میزان “ میں اس کا ذکر کرتے ہوئے یہ بات کہی ہے کہ اس کا بیٹا محمد بن بن عباد بن موسیٰ بن راشد ، جس کا لقب ” سند ولا “ ہے ، وہ اس سے روایت نقل کرنے میں منفرد ہے ۔
یہ روایت امام بہیقی نے اپنی ” سنن “ میں اس کے بیٹے محمد بن عباد کے حوالے سے اس سے نقل کی ہے اور انہوں نے اس کے اور امام شعبی کے درمیان ابوبکر ہذلی نامی راوی کو داخل کیا ہے ، جس کا نام سلمیٰ بن عبداللہ ہے ، امام أحمد ، یحیی بن معین ، ابوزرعہ اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، غندر نے اسے جھوٹا کہا: ہے ، لیکن عباد نامی راوی سے اس کا بیٹا محمد نقل کرنے میں منفرد نہیں ہے ، کیونکہ یہی روایت امام بزار اور امام بیہقی نے عیسیٰ بن یونس کے حوالے سے اس راوی سے نقل کی ہے ، امام بیہقی کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : موسیٰ بن عباد نے ہمیں حدیث بیان کی ، وہ کہتے ہیں : امام شعبی نے ہمیں یہ بات بیان کی ، تو اس بنیاد پر اس روایت کی سند اضطراب والی ہے ۔