مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الوصايا— وصیتوں کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ يَتْرُكُ وَرَثَتَهُ أَغْنِيَاءَ . باب: اس شخص کا بیان ، جو اپنے ورثاء کو خوشحال چھوڑ کر جاتا ہے
حدیث نمبر: 7101
عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّكَ إِنْ تَدَعْ وَرَثَتَكَ أَغْنِيَاءَ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَدَعَهُمْ عَالَةً يَتَكَفَّفُونَ النَّاسَ ، وَلَنْ تُنْفِقَ نَفَقَةً تَبْتَغِي بِهَا وَجْهَ اللَّهِ إِلَّا أُجِرْتَ بِهَا حَتَّى مَا تَجْعَلَ فِي فِي امْرَأَتِكَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْوَلِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُوَقَّرِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اگر تم اپنے ورثاء کو خوشحال چھوڑ کر جاتے ہو ، تو یہ اس سے زیادہ بہتر ہے کہ تم انہیں بد حال چھوڑ کر جاؤ اور وہ لوگوں سے مانگتے پھریں ، تم اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے جو کچھ بھی خرچ کرو گے ، تمہیں اس کا اجر ملے گا ، یہاں تک کہ تم اپنی بیوی کے منہ میں جو لقمہ ڈالو گے ( اس کا بھی تمہیں اجر ملے گا ) “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ولید بن محمد موقری ہے اور وہ متروک ہے ۔