مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأحكام— احکام کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الشَّاهِدِ وَالْيَمِينِ . باب: ایک گواہ اور قسم ( کی بنیاد پر فیصلہ دینا )
وَعَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ ثَعْلَبَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعَثَ صَحَابَتَهُ فَأَخَذُوا سَبْيَ بَنِي الْعَنْبَرِ - وَهُمْ مُخَضْرَمُونَ وَقَدْ أَسْلَمُوا - فَرَكِبَ زَبِيبٌ نَاقَةً لَهُ ، ثُمَّ اسْتَقْدَمَ الْقَوْمَ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي إِنَّ صَحَابَتَكَ أَخَذُوا سَبْيَ بَنِي الْعَنْبَرِ وَهُمْ مُخَضْرَمُونَ ، وَقَدْ أَسْلَمُوا ؟ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَلَكَ بَيِّنَةٌ يَا زَبِيبُ ؟ " قَالَ : نَعَمْ ؛ شَهِدَ سَمُرَةُ وَحَلَفَ زَبِيبٌ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " رُدُّوا عَلَى بَنِي الْعَنْبَرِ كُلَّ شَيْءٍ لَهُمْ فَرَدُّوا عَلَيْهِمْ كُلَّ شَيْءٍ لَهُمْ غَيْرَ زِرْبِيَّةِ أُمِّي . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَى أَنْ قَالَ : وَدَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ زَبِيبٍ فَمَسَحَ يَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ حَتَّى أَجْرَاهَا عَلَى سُرَّتِهِ . قَالَ زَبِيبٌ : حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَ كَفِّ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ثُمَّ قَالَ : " اللَّهُمَّ ارْزُقْهُ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ " . ثُمَّ انْصَرَفَزَبِيبٌ بِالسَّيْفِ فَبَاعَهُ بِبَكْرَتَيْنِ مِنْ صَدَقَةِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَتَوَالَدَتَا عِنْدَ زَبِيبٍ حَتَّى بَلَغَتَا مِائَةً وَنَيِّفًا . ¤ قُلْتُ : رَوَى لَهُ أَبُو دَاوُدَ حَدِيثًا بِغَيْرِ هَذَا السِّيَاقِ ، وَفِيهِ : أَنَّهُمْ رَدُّوا عَلَيْهِ نِصْفَ الَّذِي لَهُمْ . وَهُنَا : أَنَّهُمْ رَدُّوا الْجَمِيعَ . وَهُنَاكَ : لَمْ يَشْهَدْسَمُرَةُ وَأَبَى أَنْ يَشْهَدَ . وَهُنَا : أَنَّهُ شَهِدَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤سیدہ زینب بنت ثعلبہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو بھیجا ، انہوں نے بنوعنبر کے قیدیوں کو پکڑ لیا ، جو مخضر میں تھے اور اسلام قبول کر چکے تھے ، زبیب اپنی اونٹنی پر سوار ہو کر لوگوں سے پہلے آئے اور عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، آپ کے اصحاب نے بنو عنبر کے قیدیوں کو پکڑ لیا ہے ، حالانکہ وہ لوگ ” مخضر مین“ ہیں اور اسلام قبول کر چکے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت کیا : اے زبیب ! کیا تمہارے پاس کوئی ثبوت ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! پھر سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ نے گواہی دے دی اور سیدنا زبیب رضی اللہ عنہ نے قسم اٹھا لی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بنو عنبر کی ہر چیز انہیں واپس کر دو ! تو لوگوں نے ان لوگوں کی ہر چیز انہیں واپس کر دی ، صرف میری والدہ کی ہنڈیا نہیں دی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری روایت ذکر کی ہے ، جس میں آگے چل کر یہ الفاظ ہیں : وہ کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا زبیب رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، آپ نے اپنا دست مبارک ان کے سر پر پھیرا ، یہاں تک کہ ان کی ناف تک لے کے آئے ، سیدنا زبیب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتھیلی کی ٹھنڈک میں نے محسوس کی ، پھر آپ نے دعا کی : اے اللہ ! تو اسے عفو اور عافیت عطا فرما ! پھر سیدنا زبیب رضی اللہ عنہ تلوار لے کر گئے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقہ کے اونٹوں میں سے ، دو جوان اونٹنیوں کے عوض میں وہ تلوار فروخت کر دی ، ان اونٹنیوں نے سیدنا زبیب رضی اللہ عنہ کے ہاں بچوں کو جنم دیا ، یہاں تک کہ ان کے ہاں ایک سو سے زیادہ اونٹنیاں ہو گئیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابوداؤد نے اس صحابی کے حوالے سے اس سیاق کے بغیر روایت نقل کی ہے ، جس میں یہ الفاظ ہیں : ان لوگوں نے ان لوگوں کی چیزوں کا نصف واپس کیا تھا ، جبکہ یہاں یہ ہے کہ سب کچھ واپس کر دیا تھا ، وہاں یہ بات ذکر ہوئی ہے : سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ نے گواہی نہیں دی تھی ، انہوں نے گواہی دینے سے انکار کر دیا تھا ، جبکہ یہاں یہ ذکر ہو رہا ہے کہ انہوں نے گواہی دی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔