مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأحكام— احکام کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الشُّهُودِ . باب: گواہوں کا بیان
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَيَّمَا رَجُلٍ حَالَتْ شَفَاعَتُهُ دُونَ حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ تَعَالَى لَمْ يَزَلْ فِي سُخْطِ اللَّهِ حَتَّى يَنْزِعَ . وَأَيَّمَا رَجُلٍ شَدَّ غَضَبًا عَلَى مُسْلِمٍ فِي خُصُومَةٍ لَا عِلْمَ لَهُ بِهَا ، فَقَدْ عَانَدَ اللَّهَ حَقَّهُ ، وَحَرَصَ عَلَى سُخْطِهِ وَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ تَتَابَعُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ . وَأَيَّمَا رَجُلٍ أَشَاعَ عَلَى رَجُلٍ مُسْلِمٍ بِكَلِمَةٍ ، وَهُوَ مِنْهَا بَرِيءٌ سَبَّهُ بِهَا فِي الدُّنْيَا كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يُذِيبَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي النَّارِ حَتَّى يَأْتِيَ بِإِنْفَاذِ مَا قَالَ " . ¤سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جس شخص کی سفارش ، اللہ تعالی کی حدود میں سے کسی حد کے لئے رکاوٹ بن جائے ، ایسا شخص اللہ تعالیٰ کی ناراضگی میں مسلسل رہتا ہے ، جب تک وہ اس سے الگ نہیں ہو جاتا ہے ، اور جو شخص کسی مسلمان کے خلاف کسی جھگڑے میں غضب کا اظہار کرتا ہے ، جس کے بارے میں اسے پتہ ہی نہ ہو ، تو ایسا شخص اللہ تعالیٰ کے حق کے خلاف عناد کا مظاہرہ کرتا ہے ، اور اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کے بارے میں لالچ کا اظہار کرتا ہے ، ایسے شخص پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہوتی ہے ، جو قیامت کے دن تک برقرار رہتی ہے اور جو شخص کسی مسلمان شخص کے خلاف کوئی بات پھیلاتا ہے ، حالانکہ وہ شخص اس بات سے بری الذمہ ہو ، اور اس شخص کا مقصد دنیا میں اس شخص کو برا کہنا ہو ، تو اللہ تعالیٰ کے ذمہ یہ بات لازم ہے کہ قیامت کے دن اُسے جہنم کی آگ میں گھول دے ، جب تک وہ ایسی چیز نہیں لے آتا ، جس کے ذریعے وہ اپنی کہی ہوئی بات ( کی سزا ) سے نکل آئے “ ۔