مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأحكام— احکام کے بارے میں روایات
بَابُ التَّسْوِيَةِ بَيْنَ الْخَصْمَيْنِ . باب: دونوں فریقوں کے درمیان برابری رکھنا
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا ابْتُلِيَ أَحَدُكُمْ فِي الْقَضَاءِ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ فَلَا يَقْضِيَنَّ ، وَهُوَ غَضْبَانُ وَلْيُسَوِّ بَيْنَهُمْ بِالنَّظَرِ وَالْمَجْلِسِ وَالْإِشَارَةِ ، وَلَا يَرْفَعْ صَوْتَهُ عَلَى أَحَدِ الْخَصْمَيْنِ فَوْقَ الْآخَرِ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِاخْتِصَارٍ ، وَفِيهِ عَبَّادُ بْنُ كَثِيرٍ الثَّقَفِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی ایک شخص مسلمانوں کے درمیان قاضی بننے کی آزمائش میں مبتلاء ہو ، تو وہ غصے کی حالت میں ہرگز فیصلہ نہ دے ، دیکھنے ، بیٹھنے کی جگہ ، اور اشارہ کرنے کے حوالے سے ، وہ لوگوں کے درمیان برابری رکھے ، اور دو فریقوں میں سے کسی ایک کے خلاف دوسرے کی بہ نسبت آواز بلند نہ کرے “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عباد بن کثیر ثقفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔