مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأحكام— احکام کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الْقَضَاءِ . باب: قضاء کا بیان
حدیث نمبر: 6997
وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا مِنْ قَاضٍ مِنْ قُضَاةِ الْمُسْلِمِينَ إِلَّا وَمَعَهُ مَلَكَانِ يُسَدِّدَانِهِ إِلَى الْحَقِّ مَا لَمْ يُرِدْ غَيْرَهُ ، فَإِذَا أَرَادَ غَيْرَهُ وَجَارَ مُتَعَمِّدًا ؛ تَبَرَّأَ مِنْهُ الْمَلَكَانِ وَوَكَلَاهُ إِلَى نَفْسِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ أَبُو دَاوُدَ الْأَعْمَى ، وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مسلمانوں کے قاضیوں میں سے ، جو بھی قاضی ہوتا ہے ، اس کے ساتھ دو فرشتے ہوتے ہیں ، جو حق کی طرف اس کی رہنمائی کرتے ہیں جب تک وہ حق کے علاوہ کسی اور چیز کا ارادہ نہیں کرتا ، جب وہ حق کے علاوہ کا ارادہ کرتا ہے اور جان بوجھ کر زیادتی کرتا ہے ، تو دونوں فرشتے اس سے لاتعلق ہو جاتے ہیں اور اسے اس کی ذات کے حوالے کر دیتے ہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوداؤد نابینا ہے اور وہ کذاب ہے ۔