حدیث نمبر: 6994
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ وَلِيَ مِنْ أَمْرِ الْمُسْلِمِينَ وَلَايَةً ، وَكَانَتْ بِنِيَّةِ الْحَقِّ ، وَكَّلَ اللَّهُ بِهِ مَلَكَيْنِ يُوَفِّقَانِهِ وَيُرْشِدَانِهِ ، وَمَنْ وَلِيَ مِنْ أَمْرِ الْمُسْلِمِينَ شَيْئًا ، وَكَانَتْ نِيَّتُهُ غَيْرَ الْحَقِّ ، وَكَّلَهُ اللَّهُ إِلَى نَفْسِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَالْبَزَّارُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " يُوَفِّقَانِهِ وَيُسَدِّدَانِهِ إِذَا أُرِيدَ بِهِ الْخَيْرُ " . ¤ وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ خُثَيْمِ بْنِ عِرَاكٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص مسلمانوں کے کسی معاملے کا نگران بنتا ہے اور اس کی نیت حق کے مطابق ہوتی ہے ، تو اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ دو فرشتے مقرر کر دیتا ہے ، جو اسے توفیق دیتے ہیں اور اس کی رہنمائی کرتے ہیں ، اور جو شخص مسلمانوں کے کسی معاملے کا نگران بنتا ہے اور اس کی نیت حق کے مطابق نہیں ہوتی ہے ، تو اللہ تعالیٰ اسے اس کی ذات کے حوالے کر دیتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور امام بزار نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” وہ دونوں فرشتے اسے توفیق دیتے ہیں ، اُسے سیدھے راستے پر رکھتے ہیں ، جب اس کے بارے میں بھلائی کا ارادہ کر لیا گیا ہو “ ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن خثیم بن عراک ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأحكام / حدیث: 6994
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1350)»