حدیث نمبر: 6992
وَعَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ الْمُزَنِيِّ قَالَ : أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ أَقْضِيَ بَيْنَ قَوْمٍ ، فَقُلْتُ : مَا أُحْسِنُ أَنْ أَقْضِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " يَدُ اللَّهِ مَعَ الْقَاضِي مَا لَمْ يَحِفْ عَمْدًا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَبُو دَاوُدَ الْأَعْمَى ، وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ مزنی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ حکم دیا کہ میں کچھ لوگوں کے درمیان قاضی کے فرائض سرانجام دوں ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں اچھی طرح سے قاضی کے فرائض سرانجام نہیں دے سکتا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالی کا دست رحمت قاضی کے ساتھ ہوتا ہے ، جب تک وہ جان بوجھ کر زیادتی نہیں کرتا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوداؤد نابینا ہے اور وہ کذاب ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأحكام / حدیث: 6992
درجۂ حدیث محدثین: موضوع
تخریج حدیث «الطبراني فى المعجم الكبير (230/20) اخرجه احمد فى المسند (26/5)»