مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأيمان والنذور— قسموں اور نذروں کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي النَّذْرِ . باب: نذر کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَرِّيَّةً فَقَالَ : " لَئِنْ سَلَّمَهُمُ اللَّهُ لَأَشْكُرَنَّهُ " . أَوْ قَالَ : " عَلَيَّ إِنْ سَلَّمَهُمُ اللَّهُ أَنْ أَشْكُرَهُ " . فَغَنِمُوا وَسَلِمُوا فَقَالَ : " اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ شُكْرًا وَلَكَ الْمَنُّ فَضْلًا " . فَانْتَظَرَهُ النَّاسُ يَصْنَعُ شَيْئًا فَلَمْ يَرَوْهُ يَصْنَعُ شَيْئًا ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ قُلْتَ ، لِلَّذِي قَالَ . فَقَالَ : " أَوَلَمْ أَقُلِ : اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ شُكْرًا وَلَكَ الْمَنُّ فَضْلًا ؟ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ سَالِمٍ الْمَدَنِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤ قُلْتُ : وَيَأْتِي حَدِيثُ النَّوَّاسِ بْنِ سِمْعَانَ فِي بَابِ : لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةٍ . ¤سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہم روانہ کی ، آپ نے فرمایا : اگر اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو سلامت رکھا تو میں ضرور اس کا شکر ادا کروں گا ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) آپ نے فرمایا : اگر اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو سلامت رکھا تو مجھ پر لازم ہے کہ میں اس کا شکر ادا کروں ، تو ان لوگوں کو مال غنیمت بھی حاصل ہوا اور وہ سلامت بھی رہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے اللہ ! شکر کے طور پر ، حمد تیرے ہی لئے مخصوص ہے ، اور فضل کے طور پر تیرا ہی احسان ہے ، لوگوں نے آپ کا انتظار کیا کہ شاید آپ کچھ کریں گے ، لیکن جب انہوں نے آپ کو کچھ کرتے ہوئے نہ دیکھا تو عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ نے تو فلاں بات ارشاد فرمائی تھی ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا میں نے یہ نہیں کہا: ” اے اللہ ! شکر کے طور پر ہر طرح کی حمد تیرے ہی لئے مخصوص ہے اور فضل کے طور پر تیرا ہی احسان ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن سالم مدنی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث آگے چل کر ” معصیت کے بارے میں نذر کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی “ والے باب میں آئے گی ۔