مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ غَصَبَ أَرْضًا . باب: اس شخص کا بیان ، جو زمین کو غصب کر لیتا ہے
حدیث نمبر: 6886
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَخَذَ شِبْرًا مِنْ مَكَّةَ فَكَأَنَّمَا أَخَذَهُ مِنْ تَحْتِ قَدَمِ الرَّحْمَنِ وَمَنْ أَخَذَ مِنْ سَائِرِ الْأَرْضِ شَيْئًا بِغَيْرِ حَقِّهِ جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُطَوَّقًا عُنُقُهُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ عَطِيَّةَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ كَذَّابٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص مکہ میں سے ، بالشت بھر ( زمین ناحق طور پر ) لے گا ، تو گویا اس نے رحمان کے پاؤں کے نیچے سے اُسے لیا اور جو شخص باقی ساری زمین میں سے کچھ بھی ناحق طور پر لے گا ، جب وہ قیامت کے دن آئے گا ، تو سات زمینوں کا طوق اس کی گردن میں ڈالا گیا ہو گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن فضل بن عطیہ ہے اور وہ متروک ہے اور کذاب ہے ۔