حدیث نمبر: 6870
وَعَنْ أَبِي مُوسَى أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - زَارَ قَوْمًا مِنَ الْأَنْصَارِ فِي دَارِهِمْ فَذَبَحُوا لَهُ شَاةً فَصَنَعُوا لَهُ مِنْهَا طَعَامًا فَأَخَذَ مِنَ اللَّحْمِ شَيْئًا لِيَأْكُلَهُ فَمَضَغَهُ سَاعَةً لَا يُسِيغُهُ فَقَالَ : " مَا شَأْنُ هَذَا اللَّحْمِ ؟ " فَقَالُوا : شَاةٌ لِفُلَانٍ ذَبَحْنَاهَا حَتَّى يَجِيءَ [ صَاحِبُهَا ] نُرْضِيهِ مِنْ ثَمَنِهَا . فَقَالَ : " أَعْطُوهَا الْأَسَارَى " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ بِشْرٌ الْمَرِيسِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انصار سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگوں سے ملنے ان کے محلے تشریف لے گئے ، ان لوگوں نے آپ کے لئے بکری ذبح کی اور آپ کے لئے کھانا تیار کیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گوشت لیا تاکہ اسے کھائیں آپ نے تھوڑی دیر اسے چبایا لیکن آپ اسے نگل نہیں سکے ، آپ نے دریافت کیا : اس گوشت کا کیا معاملہ ہے ؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ فلاں کی بکری ہے ، جسے ہم نے ذبح کر دیا ہے ، جب اس کا مالک آئے گا تو ہم اس کی قیمت کے حوالے سے اُسے راضی کر دیں گے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ گوشت قیدیوں کو دے دو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی بشر مریسی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6870
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (1625)»