مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے بارے میں روایات
بَابُ اللُّقَطَةِ . باب: گمشدہ ملنے والی چیز کا بیان
وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَجَدَ تَمْرَتَيْنِ فَأَخَذَ تَمْرَةً وَأَعْطَانِي الْأُخْرَى . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَأَبُو يَعْلَى وَلَفْظُهُ : كُنْتُ أَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَجَدَ ثُفْرُوقَةً فِيهَا تَمْرَتَانِ فَأَخَذَ تَمْرَةً وَأَعْطَانِي تَمْرَةً . ¤ وَفِيهِ عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطَّرَائِفِيُّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ . ¤سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو کھجوریں پائیں آپ نے ایک کھجور لے لی اور دوسری مجھے دے دی ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ان کی روایت کے یہ الفاظ ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلتا ہوا جا رہا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ” ثقروفہ “ پایا ( ثقروفہ سے مراد کھجور کا ایسا گچھا ہے ، جس میں سے کھجوریں کھا لی گئی ہوں اور کچھ باقی رہ گئی ہوں ) جس میں دو کھجوریں تھیں ، تو ایک کھجور آپ نے لے لی اور ایک مجھے عطا کر دی ۔ اس کی سند میں ایک راوی عثمان بن عبدالرحمن طائفی ہے اور وہ ثقہ ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔