مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے بارے میں روایات
بَابُ اللُّقَطَةِ . باب: گمشدہ ملنے والی چیز کا بیان
حدیث نمبر: 6848
وَعَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنِ الْتَقَطَ لُقَطَةً يَسِيرَةً ثَوْبًا أَوْ شَبْهَهُ فَلْيُعَرِّفْهُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَمَنِ الْتَقَطَ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ سِتَّةَ أَيَّامٍ ، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا وَإِلَّا فَلْيَتَصَدَّقْ بِهَا ، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا فَلْيُخَيِّرْهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَعْلَى ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا یعلی بن مرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص کسی معمولی سی گمشدہ چیز کو پاتا ہے جیسے کپڑا یا اس کی مانند کوئی چیز ہے ، تو پھر وہ تین دن تک اس کا اعلان کرے گا اور جو اس سے زیادہ قیمت والی کوئی گمشدہ چیز پاتا ہے ، تو وہ چھ دن تک اعلان کرے گا اگر اس کا مالک آ جاتا ہے ، تو ٹھیک ہے ورنہ وہ اس کو صدقہ کر دے گا پھر اگر اس کا مالک آ جاتا ہے ، تو وہ شخص اس کو اختیار دے گا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عمر بن عبداللہ بن یعلی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔