❮
❯
حدیث نمبر: 684
عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ : كُنْتُ أَكْتُبُ الْوَحْيَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَكَانَ إِذَا نَزَلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ أَخَذَتْهُ بُرَحَاءُ شَدِيدَةٌ ، وَعَرِقَ عَرَقًا شَدِيدًا مِثْلَ الْجُمَّانِ ، ثُمَّ سُرِّيَ عَنْهُ ، فَكُنْتُ أَدْخُلُ عَلَيْهِ بِقِطْعَةِ الْكَتِفِ أَوْ كَسْرَةٍ ، فَأَكْتُبُ وَهُوَ يُمْلِي عَلَيَّ ، فَمَا أَفْرَغُ حَتَّى تَكَادَ رِجْلِي تَنْكَسِرُ مِنْ ثِقْلِ الْقُرْآنِ حَتَّى أَقُولَ : لَا أَمْشِي عَلَى رِجْلِي أَبَدًا ، فَإِذَا فَرَغْتُ قَالَ : " اقْرَأْ " ، فَأَقْرَأَهُ ، فَإِنْ كَانَ فِيهِ سَقْطٌ أَقَامَهُ ، ثُمَّ أَخْرُجُ بِهِ إِلَى النَّاسِ .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ ، إِلَّا أَنَّ فِيهِ : وَجَدْتُ فِي كِتَابِ خَالِي . فَهُوَ وَجَادَّةٌ .
محمد محی الدین

سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے وحی کی کتابت کیا کرتا تھا ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوتی تھی تو آپ کو شدت کا سامنا کرنا پڑتا تھا اور آپ کو بہت سا پسینہ آتا تھا ، جو موتیوں کی طرح کا ہوتا تھا ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ کیفیت ختم ہوتی تھی تو میں ( جانور کے ) کندھے ، یا کسی اور چیز کا ٹکڑا لے کر آتا تھا ، اور اُس وحی کو نوٹ کرتا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے املاء کرواتے تھے وہ تحریر پوری ہونے سے پہلے قرآن کے وزن کی وجہ سے یوں محسوس ہو رہا تھا کہ میری ٹانگ ٹوٹ جائے گی ، یہاں تک کہ میں یہ سوچ رہا تھا کہ اب میں اس ٹانگ پر کبھی نہیں چل سکوں گا ، جب میں فارغ ہوا ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : پڑھ کر سناؤ ! میں آپ کو پڑھ کر سناتا تھا ، اگر اس میں کوئی غلطی ہوتی تھی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ٹھیک کروا دیتے تھے ، پھر میں وہ لے کر لوگوں کی طرف چلا جاتا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، تاہم اس کی سند میں یہ تحریر ہے : میں نے اپنے ماموں کی تحریر میں یہ بات پائی تو یہ ” وجادہ “ کے طور پر روایت ہو گی ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 684
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجم الاوسط 1913»