حدیث نمبر: 6838
وَفِي رِوَايَةٍ عَنِ الْجَارُودِ أَيْضًا قَالَ : بَيْنَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ ، وَفِي الظَّهْرِ قِلَّةٌ . إِذَا تَذَكَّرَ الْقَوْمُ الظَّهْرَ . فَقُلْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قَدْ عَلِمْتَ مَا تَلَقَّيْنَاهُ مِنَ الظَّهْرِ . قَالَ : " وَمَا يَكْفِينَا ؟ " . قُلْتُ : ذُودٌ نَأْتِي عَلَيْهِ فِي جَرْفٍ فَنَسْتَمْتِعُ بِظُهُورِهِنَّ . قَالَ : " لَا ؛ ضَالَّةُ الْمُسْلِمِ حَرَقُ النَّارِ فَلَا يَقْرَبَنَّهَا ضَالَّةُ الْمُسْلِمِ حَرَقُ النَّارِ فَلَا يَقْرَبَنَّهَا " . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِأَسَانِيدَ رِجَالُ بَعْضِهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا جارود رضی اللہ عنہ ہی کے حوالے سے ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : وہ یہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کر رہے تھے ، سواری کے جانور کم تھے ، اسی دوران لوگوں نے سواری کے جانوروں کا ذکر کیا ، تو میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! جانوروں کے حوالے سے ہمیں جو صورت حال لاحق ہے ، وہ آپ کے علم میں ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا چیز ہمارے لئے کفایت کر سکتی ہے ؟ میں نے عرض کی : جرف کے مقام پر جب ہم آئیں گے تو کچھ اونٹ ملیں گے ، اگر ہم ان کی پشتوں کے ذریعے نفع حاصل کر لیں ( یعنی سواری کے استعمال میں لے آئیں ، تو یہ مناسب ہو گا ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی نہیں ! مسلمان کی گمشدہ چیز آگ کا الاؤ ہے ، اس کے ہرگز قریب نہیں جانا ، مسلمان کی گمشدہ چیز آگ کا الاؤ ہے ، اس کے ہرگز قریب نہیں جانا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، جس میں سے بعض کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6838
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح