حدیث نمبر: 6823
وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : إِنَّهُ أَتَاهُ رَجُلٌ مِنَ الْأَعْرَابِ يَسْتَفْتِيهِ فِي الَّذِي يَحْرُمُ عَلَيْهِ ، وَفِي الَّذِي يَحِلُّ لَهُ ، وَفِي نَتَجِهِ وَمَاشِيَتِهِ ، وَفِي عَنْزِهِ وَفَرْعِهِ مِنْ نَتَجِ إِبِلِهِ وَغَنَمِهِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَحِلُّ لَكَ الطَّيِّبَاتُ وَتَحْرُمُ عَلَيْكَ الْخَبَائِثُ ، إِلَّا أَنْ تَفْتَقِرَ إِلَى طَعَامٍ لَا يَحِلُّ لَكَ فَتَأْكُلَ مِنْهُ حَتَّى تَسْتَغْنِيَ عَنْهُ " . ¤ وَإِنَّهُ سَأَلَهُ رَجُلٌ حِينَئِذٍ : مَا فَقْرِي ؟ وَمَا الَّذِي آكُلُ مِنْ ذَلِكَ إِذَا بَلَغْتُهُ ؟ وَمَا غِنَايَ الَّذِي يُغْنِينِي عَنْهُ ؟ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا كُنْتَ تَرْجُو نَتَجًا فَتَبَلَّغْ بِلُحُومِ مَاشِيَتِكَ إِلَى نَتَجِكَ، أَوْ كُنْتَ تَرْجُو غَيْثًا مَدَرًا لَكَ فَتَبَلَّغْ إِلَيْهَا مِنْ لُحُومِ مَاشِيَتِكَ، أَوْ كُنْتَ تَرْجُو مِيرَةً تَنَالُهَا فَتَبَلَّغْ مِنْ لُحُومِ مَاشِيَتِكَ ، وَإِنْ كُنْتَ لَا تَرْجُو مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَأَطْعِمْ أَهْلَكَ فِيمَا بَدَا لَكَ حَتَّى تَسْتَغْنِيَ عَنْهُ " . ¤ قَالَ الْأَعْرَابِيُّ : مَا غِنَايَ الَّذِي أَدَعُهُ إِذَا وَجَدْتُهُ ؟ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا رَوَيْتَ أَهْلَكَ غَبُوقًا مِنَ اللَّبَنِ فَاجْتَنِبْ مَا حُرِّمَ عَلَيْكَ مِنَ الطَّعَامِ . وَأَمَّا مَالُكَ فَإِنَّهُ مَيْسُورٌ كُلُّهُ لَيْسَ فِيهِ حَرَامٌ غَيْرَ أَنَّ فِي نَتَجِكَ مِنْ إِبِلِكَ فَرَعًا ، وَفِي نَتَجِكَ مِنْ غَنَمِكَ فَرَعًا تَغْدُوهُ مَاشِيَتَكَ حَتَّى تَسْتَغْنِيَ ، ثُمَّ إِنْ شِئْتَ أَطْعَمْتَهُ أَهْلَكَ ، وَإِنْ شِئْتَ تَصَدَّقْتَ بِلَحْمِهِ " . وَأَمَرَهُ بِعِتْرٍ مِنَ الْغَنَمِ مِنْ كُلِّ مِائَةٍ عَتِيرَةً . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ كَثِيرٍ ، وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ مَسَاتِيرُ ، وَإِسْنَادُ الْبَزَّارِ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا سمرہ بن جندب ، رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : ایک دیہاتی شخص آپ کے پاس آپ سے اس بارے میں دریافت کیا : اس نے اپنے مال ، اپنی قربانی ، اپنی جانوروں اور اپنی اونٹنیوں کے ہاں پیدا ہونے والے بچوں ، جنہیں فرع اور عتیرہ قرار دیا جاتا ہے اور ان جانوروں ، جو بانجھ ہوتے ہیں ، ان کے بارے میں دریافت کیا کہ اس میں سے کیا چیز اس کے لئے حلال ہے اور کیا اس پر حرام ہے ۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : تمہارے لئے پاکیزہ چیزیں حلال ہیں اور خبیث چیزیں تم پر حرام ہیں ، البتہ اگر تم کھانے کے محتاج ہو جاؤ ، تو معاملہ مختلف ہے ، وہ تمہارے لئے اس حد تک حلال ہو گا کہ تم اس میں سے کھا لو ، یہاں تک کہ اس سے بے نیاز ہو جاؤ ۔ اس وقت اس شخص نے آپ سے دریافت کیا : میری غربت سے مراد کیا ہے ؟ اور وہ کیا چیز ہے کہ جب میں اس تک پہنچ جاؤں گا ، تو میں ایسا کھانا کھا سکتا ہوں اور میری وہ خوشحالی کیا ہو گی ؟ جو مجھے اس سے بے نیاز کر دے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب تمہیں جانور کے ہاں بچہ پیدا ہونے کی امید ہو تو تم اپنے جانور کے گوشت کے ذریعے اس کی پیدائش تک پہنچ جاؤ یا تمہیں ایسے بادل کی امید ہو جو برسنے والا ہو ، تو تم اپنے جانور کے گوشت کے ذریعے اس تک پہنچ جاؤ یا تمہیں مال کے فائدے کی امید ہو تو تم اپنے جانور کے گوشت کے ذریعے اس تک پہنچ جاؤ اور اگر تمہیں اس میں سے کسی چیز کی امید نہیں ہوتی تو تمہیں جو مناسب لگے تو تم اپنے گھر والوں کو وہ کھلا دو یہاں تک کہ تم اس سے بے نیاز ہو جاؤ ۔ اس دیہاتی نے دریافت کیا : میری وہ خوشحالی کیا ہے ؟ جب میں اسے پاؤں گا تو اس کو ترک کر دوں گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : جب تم اپنے گھر والوں کو اچھی طرح دودھ پلا دو ، تو اس کھانے سے اجتناب کرو ، جو تم پر حرام قرار دیا گیا ہے ، جہاں تک تمہارے مال کا تعلق ہے ، تو اس پورے میں سہولت پائی جاتی ہے ، جبکہ اس میں کوئی حرام چیز موجود نہ ہو ، البتہ اگر تمہارے اونٹنی کے ہاں کوئی بچہ پیدا ہوتا ہے یا تمہاری بکری کا بچہ پیدا ہوتا ہے تو تمہارا جانور اس بچے کو خوراک فراہم کرے گا ، یہاں تک کہ وہ بچہ بے نیاز ہو جائے ، پھر اگر تم چاہو تو اس بچے کا گوشت اپنے گھر والوں کو کھلاؤ اور اگر تم چاہو تو اس کا گوشت صدقہ کر دو ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بکریوں میں سے ” عتر “ کے بارے میں اسے یہ حکم دیا کہ ہر سو میں ایک عتیرہ ہو گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور امام بزار نے بہت زیادہ اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، امام طبرانی کی سند میں مستور راوی ہیں اور امام بزار کی سند ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6823
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1328 مختصرا ) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7046)»