حدیث نمبر: 6787
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّهَا كَانَتْ تُفَلِّي رَأْسَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَاءَتْ زَيْنَبُ امْرَأَةُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ فَجَعَلَتْ تُكَلِّمُنِي وَأُكَلِّمُهَا وَرَفَعْتُ بَصَرِي إِلَيْهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَقْبِلِي عَلَيْهَا بِأُذُنَيْكِ ، فَإِنَّكِ لَسْتِ تُكَلِّمِيهَا بِعَيْنَيْكِ " . قَالَتْ زَيْنَبُ : فَجَعَلْتُ أَشْكُو ضِيقَ الْمَسْكَنِ فَقَالَ : " هَذَا كَمَا صَنَعَتِ امْرَأَةُ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ لَمْ يَسَعْهَا مَا نَزَلَتْ حَتَّى نَزَلَ عَلَى رَأْسِهَا " . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَذَاكَ مَنِ اخْتَطَّ خُطَّةً بِالْمَدِينَةِ مِنَ الْمُهَاجِرَاتِ فَلَهَا خُطَّتُهَا " . فَوَرِثَتْ نَصِيبَهَا مِنْ دَارِ عَبْدِ اللَّهِ وَأَحْرَزَتْ دَارَهَا بِالْمَدِينَةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ وَثَّقَهُ شُعْبَةُ وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ ، وَغَيْرُهُ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سر سے جوئیں نکال رہی تھیں کہ اسی دوران سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی اہلیہ زینب آ گئیں ، وہ میرے ساتھ بات چیت کرنے لگیں ، اور میں ان کے ساتھ بات چیت کرنے لگی ، میں نے نگاہ اٹھا کر ان کی طرف دیکھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم صرف کانوں کے ساتھ اس کی طرف متوجہ رہو ، تم آنکھوں کے ساتھ اس کے ساتھ بات نہیں کر رہی ہو ، زینب نے کہا: میں گھر کی تنگی کی شکایت کرنا چاہ رہی تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : عثمان بن مظعون کی اہلیہ نے بھی اسی طرح کیا تھا ، جو صورت حال اس پر نازل ہوئی تھی وہ اس کی برداشت میں نہیں تھی ، یہاں تک کہ وہ اس کے سر پر نازل ہو گئی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اسی طرح مہاجر خواتین میں سے جو بھی ، مدینہ میں نشان زد کرے گی ، تو اس کے لگائے ہوئے نشان کے مطابق اُسے ملے گا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : تو وہ خاتون ، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے گھر میں اپنے حصے کی وارث بنی تھیں ، اور انہوں نے مدینہ منورہ میں اپنا گھر محفوظ رکھا تھا ( یعنی وہ بھی ان کے پاس رہا تھا ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی قیس بن ربیع ہے ، جسے شعبہ اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6787
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (321/23)»