حدیث نمبر: 6785
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ أَحْيَا أَرْضًا مَوَاتًا فَهِيَ لَهُ ، وَلَيْسَ لِعِرْقٍ ظَالِمٍ حَقٌّ " . وَزَادَ فِي رِوَايَةٍ : فَقَالَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ - يَعْنِي لِعُرْوَةَ - تَشْهَدُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ هَذَا ؟ قَالَ : أَشْهَدُ أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْنِي بِهَذَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَشْهَدُ أَنَّ عَائِشَةَ مَا كَذَبَتْنِي . ¤ رَوَاهُ كُلُّهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِإِسْنَادَيْنِ فِي أَحَدِهِمَا عِصَامُ بْنُ رَوَّادِ بْنِ الْجَرَّاحِ ، قَالَ الذَّهَبِيُّ : لَيَّنَهُ أَبُو أَحْمَدَ الْحَاكِمُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ ، وَفِي إِسْنَادِ الْآخَرِ : رَاوٍ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص بنجر زمین کو آباد کرتا ہے ، وہ اس کی ہو گی اور کسی کو ظلم کے طور پر وہاں پودا لگانے ( یا زمین غصب کرنے ) کا حق نہیں ہو گا “ ۔ ایک روایت میں یہ الفاظ زائد ہیں : ایک مرتبہ سیدنا عمر بن عبدالعزیز نے عروہ سے کہا: کیا آپ اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ آپ نے اسی طرح ارشاد فرمایا ہے ، انہوں نے فرمایا : میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ حدیث مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے بیان کی ہے ، اور میں اس بات کی بھی گواہی دیتا ہوں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے میرے ساتھ غلط بیانی نہیں کی ہے ۔ یہ تمام روایات امام طبرانی نے معجم اوسط میں دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہیں ، جن میں سے ایک سند میں ایک راوی عصام بن رواد بن جراح ہے ، امام ذہبی کہتے ہیں : ابو أحمد حاکم نے اسے کمزور قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔ دوسری روایت کی سند میں ایک کذاب راوی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6785
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً