حدیث نمبر: 6782
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَا مِنِ امْرِئٍ يُحْيِي أَرْضًا فَتَشْرَبُ مِنْهَا كَبِدٌ حَرَّى أَوْ تُصِيبُ مِنْهَا عَافِيَةٌ إِلَّا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِهِ أَجْرًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ الزَّمْعِيُّ وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَابْنُ حِبَّانَ ، وَضَعَّفَهُ ابْنُ الْمَدِينِيِّ ، وَتَفَرَّدَ عَنْ قُرَيْبَةَ شَيْخَتِهِ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص ( بنجر ) زمین کو آباد کرتا ہے ( یعنی وہاں کھیتی باڑی کرتا ہے ) تو وہاں سے جو بھی جاندار چیز کچھ پیتی ہے ، یا رزق کا متلاشی جو کوئی ( جاندار ) وہاں سے کچھ حاصل کرتا ہے ، تو اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس شخص کے لئے اجر نوٹ کرتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن یعقوب زمعی ہے ، جسے یحییٰ بن معین اور ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، ابن مدینی نے اسے ضعیف کہا: ہے ، وہ اپنی استانی قریبہ سے روایت نقل کرنے میں منفرد ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6782
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (397/23)»