مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي مَالِ الْوَلَدِ . باب: اولاد کے مال کا حکم
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ يَسْتَعْدِي عَلَى وَالِدِهِ ، فَقَالَ : إِنَّهُ يَأْخُذُ مَالِي . فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنْتَ وَمَالُكَ مِنْ كَسْبِ أَبِيكَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِي الْأَوْسَطِ مِنْهُ : " الْوَلَدُ مِنْ كَسْبِ الْوَالِدِ " فَقَطْ . ¤ وَفِيهِ مَيْمُونُ بْنُ يَزِيدَ لَيَّنَهُ أَبُو حَاتِمٍ ، وَوَهْبُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زِمَامٍ لَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک شخص آیا اور اس نے اپنے والد کے خلاف شکایت کی اور یہ کہا: وہ میرا مال حاصل کر لیتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : ” تم اور تمہارا مال ، تمہارے باپ کی کمائی کا حصہ ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے کبیر میں نقل کی ہے اور معجم اوسط میں اس میں سے صرف یہ الفاظ ہیں : ” اولاد والد کی کمائی کا حصہ ہے “ ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی میمون بن یزید ہے ، جسے ابوحاتم نے کمزور قرار دیا ہے اور وہب بن یحیی بن زمام نامی راوی کے حالات بیان کرتے ہوئے میں نے کسی کو نہیں پایا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔