مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ فَرَّجَ عَنْ مُعْسِرٍ ، أَوْ أَنْظَرَهُ أَوْ تَرَكَ الْغَارِمَ . باب: جو شخص تنگ دست کو آسانی فراہم کرے ، یا اسے مہلت دے ، یا وصولی ترک کر دے
وَعَنْ أَبِي الْيَسَرِ قَالَ : أَشْهَدُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : " إِنَّ أَوَّلَ النَّاسِ يَسْتَظِلُّ فِي ظِلِّ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَرَجُلٌ أَنْظَرَ مُعْسِرًا حَتَّى يَجِدَ شَيْئًا ، أَوْ تَصَدَّقَ عَلَيْهِ بِمَا يَطْلُبُهُ ، يَقُولُ : مَا لِي عَلَيْكَ صَدَقَةٌ ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللَّهِ وَيَخْرِقُ صَحِيفَتَهُ " . ¤ قُلْتُ : لِأَبِي الْيَسَرِ فِي الصَّحِيحِ غَيْرُ هَذَا الْحَدِيثِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤سیدنا ابوالیسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں گواہی دے کر یہ بات بیان کرتا ہوں کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” لوگوں میں سے سب سے پہلے ، جو شخص قیامت کے دن اللہ کے سائے میں آئے گا ، وہ ایسا شخص ہو گا ، جس نے تنگدست کو اتنی مہلت دی ہو گی ، جب تک اسے گنجائش نہیں ملتی ، یا جو چیز اس سے لینی تھی ، وہ چیز اس پر صدقہ کر دی ہو گی ، اور یہ کہا: ہو گا : کہ میرا مال تم پر صدقہ ہے ، اور یہ اللہ کی رضا کے حصول کے لئے ہے ، اور پھر اس نے ( لین دین کے ) صحیفے کو پھاڑ دیا ہو “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا ابوالیسر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ” صحیح “ میں ایک حدیث مذکور ہے ، جو اس حدیث کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔