مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ فَرَّجَ عَنْ مُعْسِرٍ ، أَوْ أَنْظَرَهُ أَوْ تَرَكَ الْغَارِمَ . باب: جو شخص تنگ دست کو آسانی فراہم کرے ، یا اسے مہلت دے ، یا وصولی ترک کر دے
حدیث نمبر: 6668
وَعَنْ أَسْعَدَ بْنِ زُرَارَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ سَرَّهُ أَنْ يُظِلَّهُ اللَّهُ يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ فَلْيُيَسِّرْ عَلَى مُعْسِرٍ ، أَوْ لِيَضَعْ عَنْهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مِنْ طَرِيقِ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَسْعَدَ . وَعَاصِمٌ ضَعِيفٌ ، وَلَمْ يُدْرِكْ أَسْعَدَ بْنَ زُرَارَةَ . ¤محمد محی الدین
سیدنا اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص یہ پسند کرتا ہو کہ اللہ تعالیٰ اس کو اس دن سایہ نصیب کرے ، جس دن اس کے سائے کے علاوہ اور کوئی سایہ نہیں ہو گا ، تو اسے تنگدست کو آسانی فراہم کرنی چاہیے ، یا اسے ادائیگی معاف کر دینی چاہیے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں عاصم بن عبیداللہ کے حوالے سے ، سیدنا اسعد رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے ، عاصم نامی راوی ضعیف ہے ، اُس نے سیدنا اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔