حدیث نمبر: 6643
عَنْ أَبِي حَدْرَدٍ الْأَسْلَمِيِّ أَنَّهُ كَانَ لِيَهُودِيٍّ عَلَيْهِ أَرْبَعَةُ دَرَاهِمَ ، فَاسْتَعْدَى عَلَيْهِ ، فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، إِنَّ لِهَذَا عَلَيَّ أَرْبَعَةَ دَرَاهِمَ ، وَقَدْ غَلَبَنِي عَلَيْهَا . قَالَ : " أَعْطِهِ حَقَّهُ " قَالَ : وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا أَقْدِرُ عَلَيْهَا . قَالَ : " أَعْطِهِ حَقَّهُ " قَالَ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا أَقْدِرُ عَلَيْهَا . قَالَ : قَدْ أَخْبَرْتُهُ أَنَّكَ تَبْعَثُنَا إِلَى خَيْبَرَ ، فَأَرْجُو أَنْ تَغْنِمَنَا شَيْئًا [ فَأَرْجِعُ ] فَاقْضِهِ حَقَّهُ قَالَ : " أَعْطِهِ حَقَّهُ " . قَالَ : وَكَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا قَالَ ثَلَاثًا لَمْ يُرَاجَعْ . فَخَرَجَ بِهِ ابْنُ أَبِي حَدْرَدٍ إِلَى السُّوقِ ، وَعَلَى رَأْسِهِ عِصَابَةٌ ، وَهُوَ مُتَّزِرٌ بِبُرْدَةٍ ، فَنَزَعَ الْعِمَامَةَ عَنْ رَأْسِهِ فَاتَّزَرَ بِهَا ، وَنَزَعَ الْبُرْدَةَ ، فَقَالَ : اشْتَرِ مِنِّي هَذِهِ الْبُرْدَةَ ، فَبَاعَهَا مِنْهُ بِالدَّرَاهِمِ ، فَمَرَّتْ عَجُوزٌ ، فَقَالَتْ : مَا لَكَ يَا صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ فَأَخْبَرَهَا . فَقَالَتْ : هَا دُونَكَ هَذَا الْبُرْدَ ؛ لِبُرْدٍ طَرَحَتْهُ عَلَيْهِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي يَحْيَى لَمْ أَجِدْ لَهُ رِوَايَةً عَنِ الصَّحَابَةِ فَيَكُونَ مُرْسَلًا صَحِيحًا . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوحدرد اسلمی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : انہوں نے کسی یہودی کے چار درہم دینے تھے ، یہودی نے ان کے خلاف مقدمہ کرتے ہوئے یہ کہا: اے سیدنا محمد ! اس شخص نے میرے چار درہم دینے ہیں اور اس نے ان کے حوالے سے مجھ پر غلبہ پا لیا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اسے اس کا حق دے دو ، انہوں نے عرض کی : اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ، میں اس پر قدرت نہیں رکھتا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اسے اس کا حق دو ! انہوں نے عرض کی : اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے میں اس کی قدرت نہیں رکھتا ، انہوں نے بتایا کہ میں نے اس شخص کو یہ بتایا ہے کہ آپ ہمیں خیبر کی طرف بھیجیں گے ، تو ہمیں یہ امید ہے کہ ہمیں مال غنیمت میں سے کچھ حاصل ہو گا ، واپس آ کر اس کے حق کی اسے ادائیگی کر دوں گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اسے اس کا حق دو ! راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی بات تین مرتبہ ارشاد فرما دیتے تھے ، تو پھر آپ کو نظر ثانی کے لئے درخواست نہیں کی جاتی تھی ، سیدنا ابن ابوحدرد رضی اللہ عنہ اس شخص کو ساتھ لے کر بازار کی طرف گئے ، اُن کے سر پر پٹی بندھی ہوئی تھی اور انہوں نے چادر کو تہبند کے طور پر باندھا ہوا تھا ، انہوں نے اپنا عمامہ سر سے اتارا اور اسے تہبند کے طور پر باندھ لیا اور چادر اتار لی اور دریافت کیا : کون مجھ سے یہ چادر خریدے گا ؟ انہوں نے چند درہم کے عوض میں چادر کو فروخت کرنا تھا ، ایک بوڑھی عورت گزری اس نے کہا: اے اللہ ! کے رسول کے ساتھی ! تمہیں کیا ہوا ہے ؟ انہوں نے اس خاتون کو سارا معاملہ بتایا ، تو اس خاتون نے کہا: یہ لو تم اپنی چادر بھی رکھو ( اور رقم بھی تم رکھو ) اس عورت نے اس چادر کے بارے میں یہ بات کہی ، جو انہوں نے اتار کر دی تھی ۔
یہ روایت امام أحمد نے امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ میں نے محمد بن ابویحیی کے بارے میں ایسی کوئی روایت نہیں پائی کہ انہوں نے کسی صحابی سے روایت نقل کی ہو ، تو یہ روایت ” مرسل “ اور صحیح ہو گی ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6643
درجۂ حدیث محدثین: إسناده مرسل
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (655)، اخرجه احمد فـ المسند (422/3)»