مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الدَّيْنِ . باب: ادھار کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ : " هَاهُنَا مِنْ بَنِي فُلَانٍ أَحَدٌ ؟ " فَلَمْ يُجِبْهُ أَحَدٌ . ثُمَّ قَالَ : " هَاهُنَا أَحَدٌ مِنْ بَنِي فُلَانٍ ؟ " فَلَمْ يُجْبِهُ أَحَدٌ . ثُمَّ قَالَ : " هَاهُنَا مِنْ بَنِي فُلَانٍ أَحَدٌ ؟ " فَقَالَ رَجُلٌ : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَاهُنَا فُلَانٌ ، فَقَالَ : " إِنَّ صَاحِبَكُمْ مُحْتَبَسٌ بِبَابِ الْجَنَّةِ بِدَيْنٍ عَلَيْهِ " . فَقَالَ رَجُلٌ : عَلَيَّ دَيْنُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَسْلَمُ بْنُ سَهْلٍ الْوَاسِطِيُّ ؛ قَالَ الذَّهَبِيُّ : لَيَّنَهُ الدَّارَقُطْنِيُّ ، وَهَذِهِ عِبَارَةٌ سَهْلَةٌ فِي التَّضْعِيفِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کی ، جب آپ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے ، تو آپ نے دریافت کیا : کیا یہاں بنو فلاں سے تعلق رکھنے والا کوئی شخص موجود ہے ؟ تو کسی نے آپ کو جواب نہیں دیا ، پھر آپ نے دریافت کیا : کیا یہاں بنو فلاں سے تعلق رکھنے والا کوئی شخص موجود ہے ؟ تو کسی نے آپ کو جواب نہیں دیا ، پھر آپ نے دریافت کیا : کیا یہاں بنوفلاں سے تعلق رکھنے والا کوئی شخص موجود ہے ؟ تو ایک صاحب بولے : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! یہاں فلاں شخص موجود ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہارے ایک ساتھی کو جنت کے دروازے پر اس کے ذمہ لازم قرض کی وجہ سے روک لیا گیا ہے ، ایک شخص نے کہا: یا رسول اللہ ! اس کا قرض میرے ذمہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس روایت کی سند میں ایک راوی اسلم بن سہل واسطی ہے ، امام ذہبی کہتے ہیں : امام دارقطنی رحمہ اللہ نے اسے ” لین“ قرار دیا ہے اور کسی کو ضعیف قرار دینے کے بارے میں یہ عبارت ہلکی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔