حدیث نمبر: 6625
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : تُوُفِّيَ رَجُلٌ فَغَسَّلْنَاهُ ، وَكَفَّنَّاهُ ، وَحَنَّطْنَاهُ ، ثُمَّ أَتَيْنَا بِهِ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي عَلَيْهِ فَخَطَا خُطْوَةً ، ثُمَّ قَالَ : " أَعَلَيْهِ دَيْنٌ ؟ " قُلْتُ : دِينَارَانِ . فَانْصَرَفَ فَتَحَمَّلَهُمَا أَبُو قَتَادَةَ ، فَأَتَيْنَاهُ ، فَقَالَ أَبُو قَتَادَةَ : الدِّينَارَانِ عَلَيَّ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " قَدْ أَوْفَى اللَّهُ حَقَّ الْغَرِيمِ وَبَرِئَ مِنْهَا الْمَيِّتُ ؟ " . قَالَ : نَعَمْ . فَصَلَّى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ بَعْدَ ذَلِكَ بِيَوْمٍ : " مَا فَعَلَ الدِّينَارَانِ ؟ " . قُلْتُ : إِنَّمَا مَاتَ أَمْسِ ! قَالَ : فَعَادَ إِلَيْهِ مِنَ الْغَدِ ، فَقَالَ : قَدْ قَضَيْتُهُمَا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْآنَ بَرَدَتْ عَلَيْهِ جِلْدَتُهُ " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص کا انتقال ہوا ، ہم نے اسے غسل دیا اسے کفن دیا ، اسے خوشبو لگائی پھر اسے لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، تاکہ آپ اس کی نماز جنازہ ادا کریں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک قدم اٹھایا پھر آپ نے دریافت کیا : کیا اس کے ذمہ قرض ہے ؟ میں نے عرض کی : دو دینار ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم واپس مڑ گئے سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کی ادائیگی اپنے ذمہ لی پھر ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی : دو دیناروں کی ادائیگی میرے ذمہ ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ نے قرض خواہ کے حق کو ادا کروا دیا اور میت اس سے لاتعلق ہو گئی ، انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کی نماز جنازہ ادا کی ، اس کے ایک دن بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : دو دیناروں کے معاملے کا کیا بنا ؟ میں نے عرض کی : اس کا تو گزشتہ کل انتقال ہوا ہے ، راوی بیان کرتے ہیں : اگلے دن وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی : میں نے ان دونوں کو ادا کر دیا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اب اس شخص پر اس کی جلد ٹھنڈی ہوئی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابوداؤد نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6625
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (330/3)»