مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے بارے میں روایات
بَابُ الْبَيْعِ إِلَى أَجَلٍ . باب: مخصوص مدت تک بیع کرنا
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى حَلِيقٍ النَّصْرَانِيِّ لِيَبْعَثَ إِلَيْهِ أَثْوَابًا إِلَى الْمَيْسَرَةِ [ فَأَتَيْتُهُ ، فَقُلْتُ : بَعَثَنِي إِلَيْكَ رَسُولُ اللَّهِ لِتَبْعَثَ إِلَيْهِ بَأَثْوَابٍ إِلَى الْمَيْسَرَةِ ] فَقَالَ : مَا الْمَيْسَرَةُ ؟ وَمَتَى الْمَيْسَرَةُ ؟ . وَاللَّهِ مَا لِمُحَمَّدٍ ثَاغِيَةٌ ، وَلَا رَاعِيَةٌ . فَرَجَعْتُ ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا رَآنِي قَالَ : " كَذَبَ عَدُوُّ اللَّهِ ، أَنَا خَيْرُ مَنْ بَايَعَ . لَأَنْ يَلْبَسَ أَحَدُكُمْ ثَوْبًا مِنْ رِقَاعٍ شَتَّى خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَأْخُذَ بِأَمَانَتِهِ [ أَوْ فِي أَمَانَتِهِ ] مَا لَيْسَ عِنْدَهُ " .
رَوَاهُ أَحْمَدُ .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حلیق نامی ایک عیسائی کے پاس بھیجا تاکہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ کپڑے دیدے کہ جب گنجائش ہو گی ( تو اسے رقم دے دی جائے گی ) میں اس شخص کے پاس آیا میں نے کہا: اللہ کے رسول نے مجھے تمہاری طرف بھیجا ہے تاکہ تم انہیں کچھ کپڑے دے دو ، گنجائش میسر ہونے پر ( ان کی قیمت ادا کر دی جائے گی ) تو اس نے کہا: گنجائش کیا ہے ؟ اور گنجائش کب آئے گی ؟ اللہ کی قسم ! سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا نہ تو کوئی بکری ہے اور نہ ہی کوئی اونٹ ہے ، میں واپس آیا ، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جب آپ نے مجھے ملاحظہ کیا ، تو ارشاد فرمایا : اللہ کے دشمن نے غلط کہا: ہے میں سب سے بہتر خرید و فروخت کرنے والا ہوں ، تم میں سے کوئی ایک شخص چیتھڑوں سے بنا ہوا لباس پہن لے ، یہ اُس کے لئے اس سے زیادہ بہتر ہے کہ وہ امانت کو حاصل کر لے ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) ایسی چیز ، جو اُس کی نہ ہو ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔