حدیث نمبر: 6604
وَعَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نِسْطَاسٍ ، عَنْ فَتْحِ خَيْبَرَ قَالَ : فَتَحَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَكَانَتْ جَمِيعُهَا لَهُ حَرْثُهَا وَنَخْلُهَا ، وَلَمْ يَكُنْ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَصْحَابِهِ رَفِيقٌ ، فَصَالَحَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَهُودَ عَلَى أَنَّكُمْ تَكْفُونَا الْعَمَلَ وَلَكُمْ شَطْرُ التَّمْرِ عَلَى أَنْ أُقِرَّكُمْ مَا بَدَا لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ . فَذَلِكَ حِينَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ابْنَ رَوَاحَةَ يَخْرُصُ بَيْنَهُمْ فَلَمَّا خَيَّرَهُمْ أَخَذَتِ الْيَهُودُ التَّمْرَةَ ، فَلَمْ تَزَلْ خَيْبَرُ بَعْدُ لِلْيَهُودِ عَلَى صُلْحِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى كَانَ عُمَرُ فَأَخْرَجَهُمْ فَقَالَتْ يَهُودُ : أَلَمْ يُصَالِحْنَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى كَذَا وَكَذَا ؟ قَالَ : بَلَى ؛ عَلَى أَنْ يُقِرَّكُمْ مَا بَدَا لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ ، فَهَذَا حِينَ بَدَا لِي أَنْ أُخْرِجَكُمْ . فَأَخْرَجَهُمْ ، ثُمَّ قَسَّمَهَا بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ الَّذِينَ افْتَتَحُوهَا مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ، وَلَمْ يُعْطِ مِنْهَا أَحَدًا لَمْ يَحْضُرِ افْتِتَاحَهَا قَالَ : فَأَهْلُهَا الْآنَ الْمُسْلِمُونَ لَيْسَ فِيهَا يَهُودِيٌّ ، وَإِنَّمَا كَانَ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالْخَرْصِ لِكَيْ يُحْصِيَ الزَّكَاةَ قَبْلَ أَنْ تُؤْكَلَ الثِّمَارُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ . وَعَامِرٌ هَذَا لَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

عامر بن عبدالرحمن بن نسطاس ، خیبر فتح ہونے کے بارے میں یہ بیان کرتے ہیں : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فتح کر لیا ، وہاں کی تمام زمین ، کھیت اور کھجوروں کے باغات ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ملکیت میں آ گئے لیکن آپ کے اور آپ کے اصحاب کے پاس اتنے غلام نہیں تھے ( جو وہاں کام کاج کر سکتے ) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں کے ساتھ اس بات پر مصالحت کی کہ تم لوگ ہماری جگہ کام کرو گے اور کھجوروں کی نصف پیدوار تمہیں مل جائے گی ، اس شرط پر کہ میں تمہیں یہاں اس وقت تک رہنے دوں گا ، جب تک اللہ اور اس کے رسول کو منظور ہو گا ، ( پھر جب کھجوریں اتارنے کا وقت آیا ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا ابن رواحہ رضی اللہ عنہ کو بھیجا ، تاکہ وہ وہاں کی پیدوار کا اندازہ لگائیں ، جب سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے انہیں اختیار دیا ، تو یہودیوں نے کھجوروں کو اختیار کر لیا ۔ اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صلح کے مطابق ، خیبر مسلسل یہودیوں کے پاس رہا ، یہاں تک کہ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ آیا تو انہوں نے انہیں وہاں سے نکالنے کا حکم دیا ، یہودیوں نے کہا: کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے ساتھ اتنی ، اتنی پیدوار کے عوض میں مصالحت نہیں کی تھی ؟ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جی ہاں ! کی تھی لیکن اس شرط پر کی تھی کہ جب تک اللہ اور اس کے رسول کو منظور ہو گا ، اس وقت تک ہم تمہیں یہاں رہنے دیں گے ، اب مجھے یہ مناسب لگتا ہے کہ میں تمہیں نکال دوں ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں نکال دیا پھر انہوں نے وہاں کی زمین ان مسلمانوں کے درمیان تقسیم کر دی ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس کی فتح میں شریک ہوئے تھے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس زمین میں سے کسی ایسے شخص کو کچھ بھی نہیں دیا ، جو خیبر کی فتح میں موجود نہیں تھا ۔ راوی کہتے ہیں : اب وہاں کے مالکان مسلمان ہیں اور وہاں کوئی یہودی نہیں ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اندازہ لگانے کا حکم اس لئے دیا تھا ، تاکہ پھلوں کے کھائے جانے سے پہلے زکوۃ کا شمار ہو سکے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، عامر نامی اس راوی کے حالات بیان کرتے ہوئے میں نے کسی کو نہیں پایا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6604
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف