مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے بارے میں روایات
بَابُ الْمُزَارَعَةِ . باب: مزارعت کا بیان
حدیث نمبر: 6602
وَعَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الْمُحَاقَلَةِ ، وَالْمُزَابَنَةِ ، وَقَالَ : " إِنَّمَا يَزْرَعُ ثَلَاثَةٌ : رَجُلٌ لَهُ أَرْضٌ فَيَزْرَعُهَا ، وَرَجُلٌ مُنِحَ أَرْضًا فَهُوَ يَزْرَعُ ، وَرَجُلٌ اسْتَكْرَى أَرْضًا بِذَهَبٍ أَوْ فِضَّةٍ " . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِغَيْرِ هَذَا السِّيَاقِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤محمد محی الدین
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے محاقلہ اور مزابنہ سے منع کیا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” تین صورتوں میں کھیتی باڑی کی جا سکتی ہے ، آدمی کی اپنی زمین ہو ، وہ اس میں کھیتی باڑی کرے ، آدمی کو زمین عطیہ کے طور پر دی گئی ہو ، تو وہ کھیتی باڑی کر لے گا ، آدمی نے زمین سونے یا چاندی کے عوض میں کرائے پر حاصل کی ہو “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ” صحیح “ میں اس سیاق کے بغیر مذکور ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔