حدیث نمبر: 6596
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : لَمَّا افْتَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَيْبَرَ وَعَدَ الْيَهُودَ : " أَنْ يُعْطِيَهُمْ نِصْفَ الثَّمَرَ عَلَى أَنْ يُعَمِّرُوهَا ، ثُمَّ أُقِرُّكُمْ مَا أَقَرَّكُمُ اللَّهُ " . فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَبْعَثُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ رَوَاحَةَ يَخْرُصُهَا ، ثُمَّ يُخَيِّرُهُمْ أَنْ يَأْخُذُوا أَوْ يَتْرُكُوهَا . وَأَنَّ الْيَهُودَ أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي بَعْضٍ فَاشْتَكَوْا إِلَيْهِ غَلَاءَ خَرْصِهِ فَدَعَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ رَوَاحَةَ فَذَكَرَ لَهُ مَا ذَكَرُوا ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : هُوَ مَا عِنْدِي يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنْ شَاءُوا أَخَذُوهَا ، وَإِنْ شَاءُوا تَرَكُوهَا أَخَذْنَاهَا ، فَرَضِيَتِ الْيَهُودُ ، وَقَالُوا : بِهَذَا قَامَتِ السَّمَاوَاتُ ، وَالْأَرْضُ . ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ : " لَا يَجْتَمِعُ فِي جَزِيرَةِ الْعَرَبِ دِينَانِ " . ¤ فَلَمَّا نَمَى ذَلِكَ إِلَى عُمَرَ أَرْسَلَ إِلَى يَهُودِ خَيْبَرَ ، فَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ مَلَّكَكُمْ هَذِهِ الْأَمْوَالَ ، وَشَرَطَ لَكُمْ أَنْ يُقِرَّكُمْ مَا أَقَرَّكُمُ اللَّهُ ، فَقَدْ أَذِنَ اللَّهُ فِي إِجْلَائِكُمْ . فَأَجْلَى عُمَرُ كُلَّ يَهُودِيٍّ ، وَنَصْرَانِيٍّ عَنْ أَرْضِ الْحِجَازِ ، ثُمَّ قَسَّمَهَا بَيْنَ أَهْلِ الْمَدِينَةِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ صَالِحُ بْنُ أَبِي الْأَخْضَرِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب اللہ کے رسول نے خیبر کو فتح کر لیا تو آپ نے یہودوں کے ساتھ یہ طے کیا کہ یہودی نصف پھل مسلمانوں کو ادا کریں گے ، اور زمین کی دیکھ بھال ( یعنی کام کاج ) وہ کریں گے اور یہ کہ میں تمہیں اس وقت تک یہاں رہنے دوں گا ، جب تک اللہ تعالیٰ تمہیں یہاں رہنے دے گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو بھیجا ، انہوں نے وہاں کی پیدوار کا اندازہ لگایا اور پھر ان لوگوں کو یہ اختیار دیا کہ وہ اس کے مطابق یا تو حاصل کر لیں ، یا اتنا حصہ ترک کر دیں ، یہودی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، انہوں نے آپ کے سامنے یہ شکایت کی کہ انہوں نے زیادہ اندازہ لگایا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو بلوایا اور ان کے سامنے یہ بات ذکر کی جو ان لوگوں نے کہا: تھا ، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی : وہ چیز میرے پاس ہے ، یا رسول اللہ ! اگر یہ چاہیں تو یہ اس کے مطابق وصول کر لیں اور اگر چاہیں تو اسے چھوڑ دیں ، اس کو ہم لے لیتے ہیں تو یہودی راضی ہو گئے ، انہوں نے کہا: اسی وجہ سے آسمان اور زمین قائم ہیں ۔ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیماری کے دوران ، جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا ، یہ ارشاد فرمایا : ” جزیرہ نما عرب میں دو دین اکٹھے نہیں رہیں گے “ ۔ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اس بات کی اطلاع ملی ، تو انہوں نے خیبر کے یہودیوں کو پیغام بھیجا اور فرمایا : اللہ کے رسول نے تمہیں ان زمینوں پر اس وقت تک رہنے دیا تھا اور تمہارے لئے یہ شرط عائد کی تھی کہ وہ تمہیں اس وقت تک رہنے دیں گے ، جب تک اللہ تعالیٰ تمہیں رہنے دے گا ، تو اب اللہ تعالیٰ نے تمہیں جلاوطن کرنے کی اجازت دے دی ہے ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ہر یہودی اور ہر عیسائی کو حجاز کی سرزمین سے جلاوطن کر دیا ، اور پھر وہاں کی سرزمین اہل مدینہ کے درمیان تقسیم کر دی ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی صالح بن ابوخضر ہے اور وہ صالح ہے اور وہ ضعیف ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6596
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1286)»