مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الرِّبَا . باب: سود کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِذَا ظَهَرَ الزِّنَا وَالرِّبَا فِي قَرْيَةٍ ، فَقَدْ أَحَلُّوا بِأَنْفُسِهِمْ كِتَابَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " . ¤ قُلْتُ : هَكَذَا هُوَ فِي الْأَصْلِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي تَرْجَمَةِ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، فَلَعَلَّهُ سَقَطَ مِنَ الْأَصْلِ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ هَاشِمُ بْنُ مَرْزُوقٍ ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جب کسی بستی میں زنا اور سود ظاہر ہو جائیں ( یعنی پھیل جائیں ) تو وہ لوگ اپنے لئے اللہ کی تحریر ( یعنی عذاب ) کو حلال کر دیتے ہیں “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت اصل میں اسی طرح سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے حالات میں منقول ہے ، شاید اصل میں ( سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ ) کا نام ساقط ہو گیا ہے باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ہاشم بن مرزوق ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔