حدیث نمبر: 6519
وَعَنْ ضُمَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَرَّ بِأُمِّ ضُمَيْرَةَ ، وَهِيَ تَبْكِي ، فَقَالَ : " مَا يُبْكِيكِ أَجَائِعَةٌ أَنْتِ ؟ أَعَارِيَةٌ أَنْتِ ؟ " قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فُرِّقَ بَيْنِي وَبَيْنَ ابْنِي . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا يُفَرَّقُ بَيْنَ الْوَالِدَةِ وَوَلَدِهَا " . ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَى الَّتِي عِنْدَهُ فَرَدَّهَا عَلَى الَّذِي اشْتَرَاهَا مِنْهُ ، ثُمَّ ابْتَاعَهُمْ مِنْهُ . قَالَ ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ : ثُمَّ أَقْرَأَنِي كِتَابًا عِنْدَهُ : " بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ، مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ لِأَبِي ضُمَيْرَةَ ، وَأَهْلِ بَيْتِهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَعْتَقَهُمْ ، وَأَنَّهُمْ أَهْلُ بَيْتٍ مِنَ الْعَرَبِ إِنْ أَحَبُّوا أَقَامُوا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَإِنْ أَحَبُّوا رَجَعُوا إِلَى قَوْمِهِمْ فَلَا يُعْرَضَ لَهُمْ إِلَّا بِخَيْرٍ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ضُمَيْرَةَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ضمیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر سیدنا اُم ضمیرہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے ہوا جو رو رہی تھیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تمہیں کیا ہوا ہے کیا تمہیں بھوک لگی ہوئی ہے یا تمہیں لباس کی ضرورت ہے اس خاتون نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے اور میرے بیٹے کے درمیان علیحدگی کروا دی گئی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ماں اور اس کی اولاد کے درمیان علیحدگی نہیں کروائی جائے گی پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کی طرف پیغام بھیجا کہ وہ خاتون جس کی ملکیت میں تھیں تو اس شخص نے وہ خاتون اس شخص کو واپس کر دی جس شخص سے اس خاتون کو خریدا تھا پھر انہوں نے اس شخص سے انہیں خرید لیا ۔ ابن ابوذئب کہتے ہیں : پھر انہوں نے اپنے پاس موجود ایک تحریر مجھے پڑھائی ( جس میں یہ تحریر تھا ) ” اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے یہ اللہ کے رسول کی طرف سے ابوضمیرہ کے نام اور اس کے اہل خانہ کے لئے ہے اللہ کے رسول نے انہیں آزاد کیا ہے اور وہ عربوں کا گھرانہ شمار ہوں گے اگر وہ چاہیں تو وہ اللہ کے رسول کے ہاں مقیم رہیں اور اگر چاہیں تو اپنی قوم کی طرف واپس چلے جائیں ان کے ساتھ صرف بھلائی کا سلوک کیا جائے گا“ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حسین بن عبداللہ بن ضمیرہ ہے اور وہ متروک اور کذاب ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6519
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1269)»