مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے بارے میں روایات
بَابُ الِاحْتِكَارِ . باب: ذخیرہ اندوزی کرنا
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ الِاحْتِكَارِ مَا هُوَ ؟ قَالَ : " إِذَا سَمِعَ بِرُخْصٍ سَاءَهُ ، وَإِذَا سَمِعَ بِغَلَاءٍ فَرِحَ بِهِ ، بِئْسَ الْعَبْدُ الْمُحْتَكِرُ إِنْ أَرْخَصَ اللَّهُ الْأَسْعَارَ حَزِنَ ، وَإِنْ أَغْلَاهَا فَرِحَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ سَلَمَةَ الْخَبَائِرِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ذخیرہ اندوزی کے بارے میں دریافت کیا کہ یہ کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” یہ کہ جب آدمی قیمتیں کم ہونے کے بارے میں سنے تو یہ چیز اسے بری لگے اور جب زیادہ ہونے کے بارے میں سنے تو وہ اس پر خوش ہو ذخیرہ اندوزی کرنے والا بندہ برا ہے کہ اگر اللہ تعالی قیمتیں کم کر دے تو وہ غمگین ہو جاتا ہے اور اگر اللہ تعالی قیمتیں زیادہ کر دے تو وہ خوش ہوتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن سلمہ خبائری ہے اور وہ متروک ہے ۔