مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے بارے میں روایات
بَابُ الْخِيَارِ فِي الْبَيْعِ . باب: سودے میں ( اس کو ختم کرنے کا ) اختیار ہونا
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مِنْ بَيْعِهِمَا مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا أَوْ يَكُونُ بَيْعُهُمَا فِي خِيَارٍ " . ¤ قُلْتُ : لِأَبِي هُرَيْرَةَ عِنْدَ أَبِي دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيِّ : لَا يَفْتَرِقَنَّ اثْنَانِ إِلَّا عَنْ تَرَاضٍ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ أَيُّوبُ بْنُ عُتْبَةَ ؛ ضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” خرید و فروخت کرنے والے دونوں افراد کو ( سودا ختم کرنے کا ) اختیار ہوتا ہے جب تک وہ دونوں جدا نہیں ہو جاتے یا پھر یہ ہے کہ وہ بیع خیار ہو ، تو حکم مختلف ہے “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول روایت امام ابوداؤد اور امام ترمذی نے نقل کی ہے ( جس میں یہ الفاظ ہیں : ) ” دونوں افراد باہمی رضامندی کے ساتھ ہی ایک دوسرے سے جدا ہوں“ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ایوب بن عتبہ ہے ، جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔