حدیث نمبر: 6470
وَعَنْ عَلِيٍّ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي طَالِبٍ - قَالَ : قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَوِّمْ لَنَا السِّعْرَ . قَالَ : " غَلَاءُ السِّعْرِ وَرُخْصُهُ بِيَدِ اللَّهِ ، أُرِيدُ أَنْ أَلْقَى رَبِّي وَلَيْسَ أَحَدٌ يَطْلُبُنِي بِمَظْلَمَةٍ ظَلَمْتُهَا إِيَّاهُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ الْأَصْبَغُ بْنُ نُبَاتَةَ ؛ وَثَّقَهُ الْعِجْلِيُّ ، وَضَعَّفَهُ الْأَئِمَّةُ ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ : مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : عرض کی گئی یا رسول اللہ ! آپ ہمارے لئے قیمتیں مقرر کر دیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : قیمتوں کا زیادہ ہونا اور کم ہونا اللہ تعالی کے ہاتھ میں ہے میں یہ چاہتا ہوں کہ جب میں اپنے پروردگار کی بارگاہ میں حاضر ہوؤں تو کسی نے مجھ سے کسی زیادتی کے حوالے سے مطالبہ نہ کرنا ہو کہ جو زیادتی میں نے اس کے ساتھ کی ہو ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی اصبغ بن نباتہ ہے ، جسے عجلی نے ثقہ قرار دیا ہے اور ائمہ نے اسے ضعیف کہا: ہے بعض حضرات نے یہ کہا: ہے کہ یہ متروک ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6470
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1263)»